نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ترجمان دفترخارجہ کی صحافیوں سےغیررسمی گفتگو
  • بریکنگ :- اوآئی سی وزرائےخارجہ کونسل کااجلاس 19دسمبرکواسلام آبادمیں ہوگا،ترجمان
  • بریکنگ :- اسلامی ممالک کےوزرائےخارجہ کوشرکت کی دعوت دی گئی، ترجمان
  • بریکنگ :- اجلاس میں سلامتی کونسل کےمستقل ارکان کوشرکت کی دعوت،ترجمان
  • بریکنگ :- یورپی یونین،اقوام متحدہ اوراس کی امدادی ایجنسیوں کوشرکت کی دعوت،ترجمان
  • بریکنگ :- اجلاس میں افغانستان کااعلیٰ سطح وفدشرکت کرےگا،ترجمان
  • بریکنگ :- اوآئی سی سیکرٹریٹ کےآفیشلزاجلاس کی تیاریوں کاجائزہ لیں گے،ترجمان
  • بریکنگ :- اوآئی سی وزرائےخارجہ کاغیرمعمولی اجلاس 1980میں ہواتھا،ترجمان
  • بریکنگ :- 41سال بعدپاکستان افغانستان پراوآئی سی وزرائےخارجہ اجلاس کی میزبانی کررہاہے
  • بریکنگ :- افغانستان کوامدادنہ پہنچائی گئی تومعاشی بحران جنم لےسکتاہے، ترجمان
Coronavirus Updates
"FBC" (space) message & send to 7575

انڈوپیسیفک حکمت ِ عملی میں بھارت کی نامرادی

چین اور امریکہ کے مابین سرد جنگ متعدد محاذوں پر لڑی جا رہی ہے: بحیرہ جنوبی چین میں، افغانستان میں، مشرق وسطیٰ کے کچھ حصوں میں، مشرقی یورپ میں، بحرالکاہل میں، اور مختلف 'اقتصادی تھیٹرز‘ پر (یعنی تجارتی جنگ)‘ البتہ اس سرد جنگ کا 'سب سے گرم‘ محاذ بھارت اور چین کے مابین جاری کشمکش ہے جس کے نتیجے میں بھارت کو اپنے ایک ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ علاقے سے ہاتھ دھونا پڑے۔ لداخ میں بھارت چین کو واضح طور پر کوئی رد عمل نہیں دے سکا‘ یا سکم میں‘ یا اروناچل پردیش۔ چند درجن ایپس (جیسے ٹک ٹاک) کی بندش، اور چینی کمپنیوں پر پابندیاں، کھو دیئے جانے والے علاقے اور باوردی بھارتی فوجیوں کی ہلاکت پر مناسب ردعمل نہیں کہا جا سکتا۔
تو پھر بھارت کے پاس چین کے خلاف کون سے 'حقیقی‘ آپشنز ہیں؟ اس سوال کا جواب معلوم کرنا مشکل ہے۔ کیا بھارت روایتی جنگ کے ذریعے اپنا علاقہ واپس حاصل کر سکتا ہے؟ نہیں؛ کیونکہ چین اپنی فوجی اور تکنیکی صلاحیتوں میں بھارت سے کہیں زیادہ برتر ہے۔ کیا بھارت اپنی سرزمین کی واپسی کیلئے بات چیت کا راستہ اختیار کرسکتا ہے؟ امکان نہیں؛ حتیٰ کہ مذاکرات کے کئی رائونڈز کے بعد بھی کوئی قابلِ قدر کامیابی نہیں ملی ہے۔ کیا بھارت فوجی مدد کیلئے اپنے 'اتحادیوں‘ کو بلا سکتا ہے؟ یقیناً نہیں؛ اگر وہ ایسا کر سکتا تو اب تک کر چکا ہوتا۔ کیا بھارت چین کیلئے پریشانیوں اور دشواریوں کا باعث بننے کیلئے 'پیسیفک تھیٹرز‘ میں شرکت کرسکتا ہے؟ نہیں‘ کیونکہ بھارت کو اپنے علاقے اور اپنے پانیوں پر قابو برقرار رکھنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ بحرالکاہل کے پانیوں میں ہاتھ پائوں مارنا ایسے ہی ہے جیسے بے بنیاد 'انڈوپیسیفک‘ حکمت عملی کے کھوکھلے بیانات۔
تو پھر بھارت کیا کرسکتا ہے؟ اگر بھارت ہمت کر سکے تو سب سے اچھا آپشن آبنائے ملاکا کا راستہ بند کرنا ہے‘ جو چین کے تیل کے تجارتی روٹ میں ایک اہم تنگ گزرگاہ ہے۔ کیا بھارت اتنا بیوقوف ہے کہ ایسا کرکے چین کے غضب کو مزید ابھارے گا۔ ناممکن۔ اس کے باوجود آبنائے ملاکا میں موجود خطرات سے آگاہ چین نے پہلے ہی متبادل راستوں کی تلاش شروع کردی ہے۔ تجارت اور تیل کی فراہمی کی لائنوں کیلئے بحر ہند تک رسائی کا کوئی دوسرا راستہ۔ اس میں دو آپشنز شامل ہو چکے ہیں: (1) سی پیک، پاکستان کے راستے، جو بحرہند تک رسائی کا سب سے آسان راستہ ہے۔ (2) تھائی کینال، تھائی لینڈ کے کرا استھمس کو کاٹتے ہوئے، جزیرہ نما مالے کا سب سے تنگ نقطہ، جو چین سے بحرہند تک دوسرا راستہ کھولے گا۔ یہ تھائی کینال، یا کرا کینال، چینی بحریہ کو موقع فراہم کرے گی کہ وہ اپنے بحری جہازوں کو سائوتھ چائنا سی اور بحرِہند میں اپنے نئے قائم شدہ اڈوں کے مابین لا اور لے جا سکے۔ اس سے چین کو ملائیشیا کے اوپر سے آبنائے ملاکا کا 700 میل کا لمبا چکر نہیں کاٹنا پڑے گا۔ چین نے اس حوالے سے تھائی لینڈ کو نہر کھودنے کیلئے 30 بلین ڈالر تک کی پیشکش کی ہے۔ یہ راستے فنکشنل ہو گئے تو خطے میں چین اور اس کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا راستہ روکنے کیلئے بُنی گئی انڈوپیسیفک پالیسی کے خواب بالکل ہی دم توڑ دیں گے۔ بھارت خود کو اس خطے میں چین کا جو مدمقابل ظاہر کرتا رہا ہے‘ یہ توسیع بھارت کی اس نام نہاد حیثیت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔
'انڈوپیسیفک‘ کا مذموم تصور2018 میں اس خطے میں چین کے مقابل آنے کے بھارتی وعدے پر قائم کیا گیا تھا۔ 30 مئی 2018 کو اس وقت کے امریکی وزیر دفاع (جم میٹس) نے اعلان کیا تھا کہ پینٹاگون کی پیسیفک کمانڈ کو 'انڈوپیسیفک کمانڈ‘ سے موسوم کیا جارہا ہے، جس میں چین کو قابو کرنے اور اس کا مقابلہ کرنے کیلئے بھارت کو بحرالکاہل کے تھیٹر میں ایک بڑا کردار مل گیا ہے۔ یہ واشنگٹن کی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھاکہ نئی دہلی نے پینٹاگون کو قائل کر لیا تھاکہ وہ بحرالکاہل کے تھیٹر میں چین کا مقابلہ کرنے کا کام کر سکتا ہے، اور خطے میں چین کے معاشی مفاد‘ خصوصی طور پر سی پیک کو عدم استحکام کا شکار کر سکتا ہے۔ اس وقت کوئی نہیں جانتا تھاکہ بھارت اپنا وعدہ پورا کرسکے گا۔ کیا وہ واقعتاً اس خطے میں چین کے مدِمقابل آ سکے گا؟ کیا وہ چین کو محدود کرنے اور اس کی بڑھتی ہوئی طاقت کا سدباب کرنے میں امریکہ کیلئے مددگار ثابت ہو سکے گا؟ بھارت نے یقینی طور پر یہ دعویٰ کیا ہوگا کہ وہ ایسا کر سکتا ہے۔ اس کے جنوبی ایشیا سے ناتا توڑنے اور بحرالکاہل تھیٹر میں متعارف ہونے کی یہی وجہ تھی‘ تاہم پچھلے کچھ عرصے میں بھارت کا یہ سارا فریب بے نقاب ہو چکا ہے۔ جب چین نے بھارت کے زیر قبضہ علاقے لداخ کی حدود میں گھس کر پینگونگ جھیل اور گلوان وادی میں اہم مقامات پر قبضہ کر لیا تو بھارت کوئی بڑی مزاحمت نہ کر سکا۔ جب بھارت نے کچھ مہم جوئی کی کوشش کی تو اس نے چین سے ایک انچ زمین بھی حاصل کیے بغیر اپنے 20 فوجی مروا دیئے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق (بشمول ان اطلاعات کے جو بھارت سے آئی ہیں) چینی فوجی بھارتی فوج کی طرف سے عملی طور پر کسی مزاحمت کا سامنا کئے بغیر لداخ کے علاقے میں داخل ہوگئے اور اس کے بعد انہوں نے اس علاقے کو واپس کرنے کے بارے میں بات چیت سے انکار کردیا۔ صرف یہی نہیں، چینی اقدامات سے دلیری پاتے ہوئے نیپال نے بھی بھارت کی حدود میں اپنے علاقے کا دعویٰ کر دیا، اور ناگالینڈ کے مشرقی علاقے بھی بھارتی گرفت سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ بنگلہ دیش نے چین کے ساتھ بی آرآئی میں شمولیت کا ارادہ کر لیا ہے۔ سری لنکا نے اپنی کولمبو بندرگاہ چین کو لیز پر دے دی ہے۔ میانمار کو چین کی مدد حاصل ہے۔ ایران نے چین کے ساتھ طویل مدتی سٹریٹیجک معاہدہ کیا ہے۔ طالبان افغانستان میں حکومت تشکیل دینے کے بعد چین سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں۔ چین نے پورے بحرہند (بشمول گوادر) میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے، اور اسے بھارت کی طرف سے کسی حقیقی چیلنج یا مداخلت کا سامنا نہیں ہے۔ کواڈ (یعنی امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان) کے اتحادیوں کو اس سارے معاملے میں ملوث کرنے کی بھارتی کوششیں بھی ناکام ہوگئی ہیں۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے چند ٹوکن بیانات دیئے‘ لیکن جاپان اور آسٹریلیا کو چین کے ساتھ تنازع میں شامل ہونے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔
ان حالات میں انڈوپیسیفک کے تصور کا کیا ہوا؟ واشنگٹن اور پوری دنیا کے سنجیدہ حلقے یہ پوچھ رہے ہیں کہ اگر بھارت چین سے اپنا علاقہ بھی واپس نہیں حاصل کرسکتا تو (چینیوں کیخلاف) پیسیفک میں وہ کیا فائدہ دے سکتا ہے؟ اگر بھارتی فوجیں لداخ میں چینی فوج کا مقابلہ نہیں کرسکتیں تو کیا واقعی اس (بھارت) سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ بحیرہ جنوبی چین میں بحری جنگی جہاز بھیجے گا؟ یا بحرہند کے نیلے پانیوں میں؟ جب اسے سکم میں چینیوں کو فاصلے پر رکھنے میں پریشانی ہو رہی ہے، تو کیا یہ سی پیک روٹ میں رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے؟اور اگر بھارت چین کے خلاف اب‘ اس وقت کھڑا نہیں ہوسکتا‘ جب امریکہ کو اس کی اشد ضرورت ہے تو 'انڈو‘ پیسیفک حکمت عملی کا کیا مقصد باقی رہ جاتا ہے؟ ان حالات میں تو بھارت امریکہ پر محض بوجھ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ نہ صرف وہ چین کا مقابلہ نہیں کرسکتا بلکہ اس سے خطے میں طاقتور مغربی اتحادوں کی داستان کا بھی خاتمہ ہو سکتا ہے۔ انڈیا کا فریب آشکار ہو چکا اور ایک بھی گولی چلائے بغیر چین نے بھارت کو دوبارہ اس کی اصل جگہ پر پہنچا دیا ہے: جنوبی ایشیا میں ایک ترقی پذیر قوم‘ انڈوپیسیفک میں علاقائی کھلاڑی نہیں۔ انڈوپیسیفک کے خواب کے یوں چکنا چور ہونے سے بھارت کو بین الاقوامی سطح پر ڈگمگا دینے والے نقصان کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں حالیہ پیشرفتوں کے نتیجے میں بھارت وہیں پہنچ چکا ہے جہاں سے شروع ہوا تھا: پاکستان کا جنونی ہمسایہ، جو اس خطے میں نئی عالمی طاقت کے خون کا پیاسا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں