ڈان لیکس کے معاملے میں جو نام تھے وہ شامل ہو گئے، فوج نے ٹویٹ واپس لے لیا

پریس ریلیز کسی شخصیت کے خلاف نہیں تھی، فوج نے ٹویٹ واپس لے لیا، ڈان لیکس کے معاملے میں جو نام تھے وہ شامل ہو گئے، معاملے میں مریم نواز کے کردار سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا جواب، کہتے ہیں فوج جمہوری عمل کی حمایت کے لئے پرعزم ہے۔

راولپنڈی: (دنیا نیوز) وزارت داخلہ کی جانب سے ڈان لیکس کے معاملے پر نوٹیفکیشن کے اجراء کے بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ 29 اپریل کو کیا جانے والا ٹویٹ، کسی آفس یا شخصیت کے حوالے سے نہیں تھا۔ پاک فوج آئین کے مطابق ذمہ داری نبھانے اور جمہوری عمل کی حمایت کے عزم پر قائم ہے۔ بعد ازاں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 29 اپریل کو میڈیا پر آنے والے نوٹیفکیشن میں انکوائری کمیٹی کی مکمل سفارشات کا ذکر نہیں تھا اور بعد میں اس نوٹیفکیشن پر ہونے والے تبصروں میں حکومت اور فوج کو آمنے سامنے کھڑا کر دیا گیا، ہماری سمجھ کے مطابق، وزارت داخلہ سے حتمی نوٹیفکیشن جاری ہونا تھا، ہماری پریس ریلیز کسی حکومتی شخصیت کے خلاف نہیں تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ پریس ریلیز کے بعد جو کچھ ہوا ایسے حالات نہیں ہونے چاہیں تھے، پریس ریلیز کے بعد ہر بندے نے دو سائیڈز بنا لی تھیں تاہم پریس ریلیز کا مقصد سائیڈ بننا نہیں تھا اب وزارت داخلہ نے غلط فہمیاں دور کر دی ہیں۔ ڈان لیکس میں جو چیز نامکمل تھی وہ آج مکمل ہو گئی ہے، کمیٹی نے جو نام دیئے تھے وہ آج مکمل ہو گئے ہیں، ٹویٹ اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ پیغام پہنچانے کا تیزترین طریقہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اچھے دور کی طرف جا رہے ہیں مگر کچھ لوگ حالات خراب کرنے کی آخری کوششیں کر رہے ہیں، ہم ٹی ٹونٹی کے دور میں چل رہے ہیں اور آخری اوورز کا میچ کھیل رہے ہیں اور ہمیں 20 ویں اوور سے پہلے ہی میچ جیتنا ہے۔ چمن بارڈر کشیدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایف سی کے اہلکار افغانیوں کیساتھ بات چیت کے لئے جا رہے تھے کہ ان پر فائر کیا گیا، ہم نے سول ڈیفنس میں بھرپور جواب دیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ افغان ہمارے بھائی ہیں لیکن ہمیں مجبور کیا گیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی افغانستان کو جواب دینا پڑا۔ نورین لغاری دہشتگرد نہیں تھی، بننے جا رہی تھی، وہ ایک انیس سال کی بچی ہے، ہم نے اسے دہشتگردوں کے ہاتھوں سے نکال لیا ہے، اب یہ ہمارا فرض ہے کہ اسے زندگی کی طرف واپس لائیں، سوات میں جن بچوں کو ہم نے دہشتگردوں کی گرفت سے آزاد کرایا تھا آج وہ بھی اچھے شہری ہیں۔ کلبھوشن کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ کلبھوشن کی سزا سے متعلق قانونی طریقہ اختیار کیا گیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں