پاور سیکٹر خسارے میں، بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی جائے: کھیئل داس کوہستانی

حیدرآباد:(دنیا نیوز) وفاقی وزیر مملکت برائے بین المذاہب ہم آہنگی کھیئل داس کوہستانی نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پاور سیکٹر خسارہ میں ہے اِس لیے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی جائے۔

سندھ کے ضلع حیدر آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کھیئل داس کوہستانی کا کہنا تھا کہ لوئر سندھ رائس ملز ایسوسی ایشن کی دعوت پر حیدرآباد آیا ہوں،رائس ملرز کے مسائل سننے اور اِن کے لیے پل کا کردار ادا کروں گا۔

اُنہوں نے کہا کہ چھوٹی صنعتوں اور رائس ملرز کو ان پٹ کم مل رہا ہے،جب تک معیشت نہیں چلے گی ملک کا پہیہ نہیں چلے گا، ہم نے تحریک عدم اعتماد لا کر اس وقت کی حکومت کو ختم کیا۔

وفاقی وزیر مملکت برائے بین المذاہب ہم آہنگی کا کہنا تھا کہ اس وقت کی حکومت نے آئی ایم ایف کو بھی ناراض کر دیا، پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے مشکل فیصلے کیے گئے، شہباز شریف کی قیادت میں ملک دیوالیہ ہونے سے بچایا۔

کھیئل داس کوہستانی نے کہا کہ معیشت درست سمت میں جا رہی ہے، مہنگائی کم ہو کر 3 فیصد پر آ گئی، بجلی مہنگی ہوئی تو صنعتکار انڈسٹری نہیں چلا سکیں گے،پی آئی اے کو نقصان کی وجہ سے فروخت کیا گیا، پاور سیکٹر میں بھی خسارہ ہے، اگلا سٹیپ یہ ہے کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی جائے۔

اُن کا کہنا تھاکہ کے پی کے وزیر اعلیٰ کے پاس مینڈیٹ ہے، گورننس پر توجہ دیں،بدامنی پر توجہ کے بجائے غیر سنجیدہ رویہ افسوسناک ہے، دہشت گردوں کو دہشت گرد کہنے سے گریز قابلِ قبول نہیں، وفاق صوبوں کے مینڈیٹ کا احترام کرتا ہے۔

وزیر مملکت برائے مذہبی اُمور نے کہا کہ میں نے دودھ اور شہد کی نہریں بہنے کا دعویٰ نہیں کیا، مسلم لیگ ن ملک کی بانی جماعت ہے، مشکل فیصلے پاکستان کے لیے کیے، وزیراعظم شہباز شریف نے 14 اگست کو ایک تقریب میں بات چیت کی پیشکش کی تھی۔

کھیئل داس کوہستانی نے مزید کہا کہ ہم انتشاری سیاست کرنے والوں سے بات نہیں کریں گے نہ ہی 9 مئی کرنے والوں سے نہیں، سیاسی گفتگو والوں سے بات ہو گی،جس کے پاس اختیار ہے وہ اڈیالہ میں ہے، آئی ایم ایف کو خط لکھنے والوں سے مذاکرات ممکن نہیں ہیں، بیانیہ چھوڑیں گے تو بات چیت ہو سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں