مہنگائی میں اضافہ، زرمبادلہ ذخائر 17.2 ارب ڈالر، مانیٹری پالیسی کی تفصیلات جاری

کراچی: (دنیا نیوز) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے تفصیلی نکات جاری کرتے ہوئے ملکی معاشی صورتحال سے متعلق اہم اعداد و شمار اور رجحانات سامنے رکھ دیئے ہیں۔

سٹیٹ بینک کے مطابق مئی 2026 میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 11.7 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ ملک بھر میں مجموعی مہنگائی 8.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق مالی سال 2025-26 میں ملک کی جی ڈی پی گروتھ 3.7 فیصد رہی، جس میں صنعتی، خدمات اور زرعی شعبوں کی بہتر کارکردگی نے اہم کردار ادا کیا۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار جولائی تا مارچ کے دوران 6.5 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

سٹیٹ بینک نے بتایا کہ ملک کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 17 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ توقع ہے کہ جون کے اختتام تک یہ 18 ارب ڈالر تک جا سکتے ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ترسیلات زر میں اضافہ بیرونی کھاتوں کے استحکام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ اپریل 2026 میں 30 کروڑ ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جولائی تا اپریل مجموعی خسارہ 20 کروڑ ڈالر رہا، جس کی بنیادی وجہ توانائی کی درآمدات بتائی گئی ہے۔

سٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ مالی سال 2026 میں پرائمری سرپلس 2.5 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ مالی سال 2027 کے لیے 2 فیصد کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تیل کی بلند قیمتیں آئندہ مہینوں میں معاشی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔

سٹیٹ بینک نے بتایا کہ ایف بی آر نے مالی سال 2026 کے لیے ٹیکس ہدف کم کر کے 13 کھرب روپے مقرر کیا ہے، جبکہ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں تقریباً 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ آئی ایم ایف پروگراموں سے حاصل ہونے والی رقوم نے زرمبادلہ ذخائر کو تقویت فراہم کی ہے، جبکہ مجموعی معاشی اشاریے بتدریج بہتری کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔
 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں