مہنگائی 7.5 کے بجائے 6.2 فیصد، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس: محمد اورنگزیب کی شاندار پرفارمنس
اسلام آباد:(دنیا نیوز) قیام پاکستان سے اب تک ٹیکنوکریٹ وزرا خزانہ ہی ملکی معیشت کو سہارا دیتے اور گرنے سے بچاتے رہے، لیکن ان کی محنت اور کام بارآور ثابت نہ ہو سکے کیونکہ انہیں سیاسی مخالفت اور تنقید کے نتیجے میں منظر سے ہٹا دیا جاتا رہا۔
ملک غلام محمد، چودھری محمد علی، محمد شعیب، نبی محمد عقیلی، غلام اسحاق خان، محبوب الحق اور سرتاج عزیز جیسے ماہر ٹیکنو کریٹس مختلف ادوار میں وزیر خزانہ بنائے گئے جنہوں نے ملکی معیشت کے استحکام کیلئے اپنی اپنی پالیسیاں دیں لیکن سیاسی دباؤ اور سازشوں کی بدولت کوئی بھی ان پر مکمل عملدرآمد کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔
تحریک انصاف کے دور حکومت میں جب ملکی معیشت بری طرح عدم استحکام کا شکار ہوئی تو عبدالحفیظ شیخ کو وزارت خزانہ سنبھالنے کا موقع ملا جنہوں نے نہ صرف آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر کا قرض حاصل کیا بلکہ کورونا جیسی عالمی وبا کے باوجود ملکی معیشت کو سنبھالے رکھا۔
اِس کے باوجود وہ سیاسی پراپیگنڈے اور دباؤ کے باعث وہ بھی اپنی پالیسیاں مکمل طور پر نافذ نہ کر سکے اور2021 میں انہیں وزارت خزانہ چھوڑنا پڑی۔
ماہرین کا کہنا ہے معیشت کے استحکام کیلئے پالیسیوں کا تسلسل ازحد ضروری ہے۔
ڈاکٹر ساجد حسن
ڈاکٹر ساجد حسن نے کہا کہ فروری 2024 کے الیکشن کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت سنبھالی تو معیشت عدم استحکام کا شکار اور مہنگائی عروج پر تھی، ملکی معیشت کو ٹریک پر لانے کیلئے محمد اورنگزیب کو وزیر خزانہ کی ذمہ داری سونپی گئی جو اپنی پالیسیوں کے باعث ملک میں میکرو اکنامک استحکام لانے میں کامیاب رہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ کہ محمد اورنگزیب کے ڈھائی سالہ دور میں شرح نمو کا مسلسل بڑھنا، مالیاتی خسارہ صرف اعشاریہ سات فیصد ہونا اور عالمی ریٹنگ ایجنسیز کا پاکستان کی معیشت کو مستحکم قرار دینا محمد اورنگزیب کی کامیاب پالیسیوں کا ثبوت ہے۔
ڈاکٹر شمس الاسلام
ڈاکٹر شمس الاسلام نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹینا جارجیوا بھی پاکستان کی معاشی ترقی میں وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی خدمات کا دو بار اعتراف کر چکی ہیں۔
سلمان نقوی
ماہر معیشت سلمان نقوی کہتے ہیں موجودہ وزیر خزانہ کی پرفارمنس بہت شاندار ہے، قرضوں کے بڑھنے کی شرح میں کمی، مہنگائی کا مقررکردہ ہدف 7.5 کی بجائے 6.2 فیصد رہنا اور کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس کا مسلسل دوسرے سال مثبت رہنا اس بات کی دلیل ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ملکی معیشت کو درست سمت میں لے کر جا رہے ہیں، تاہم ماضی کی طرح اب محمد اورنگزیب کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی مثبت پالیسیوں کو منفی رخ دیا جا رہا ہے۔
سلمان نقوی نے مزید کہا کہ پاکستان کی معاشی تاریخ گواہ ہے کہ ٹیکنوکریٹ وزرائے خزانہ ملک کو فوری ڈیفالٹ اور شدید بحرانوں سے نکالنے کے لیے ’ سرجن‘ کا کردار کامیابی سے نبھاتے رہے ہیں، لیکن ملک میں مستقل معاشی استحکام اسی صورت ممکن ہے جب ان کی پالیسیوں کو پایہ تکمیل تک پہنچنے دیا جائے۔