پاکستان، ترکیہ کے درمیان توانائی شعبے میں 3 اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
استنبول: (دنیا نیوز) پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے تین اہم مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کر دیئے گئے۔
معاہدوں پر دستخط استنبول میں ہونے والی اعلیٰ سطحی بین الوزارتی مشاورت کے دوران کیے گئے، جن کا مقصد توانائی کے شعبے میں ادارہ جاتی تعاون، تکنیکی مہارت کے تبادلے اور مشترکہ ترقیاتی اقدامات کو فروغ دینا ہے۔
دستخط شدہ مفاہمتی یادداشتوں میں پاکستان کے انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (ISMO) اور ترکیہ کے انرجی ایکسچینج ادارے (EPIAŞ) کے درمیان معاہدہ، ISMO اور ترکیہ کے ٹرانسمیشن سسٹم آپریٹر (TEİAŞ) کے درمیان مفاہمتی یادداشت جبکہ پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (PPMC) اور ترک ادارے (TEDAŞ) کے درمیان تعاون کا معاہدہ شامل ہے۔
معاہدوں کے تحت نجکاری کے بعد گورننس فریم ورک، بجلی کی مارکیٹ کی ترقی، معاون خدمات کے ضوابط، پاور سسٹم آپریشنز، ٹرانسمیشن منصوبہ بندی اور بجلی کی تقسیم کے شعبے میں انتظامی امور اور ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
دونوں ممالک نے ادارہ جاتی استعداد کار بڑھانے، تکنیکی مہارت کے تبادلے اور جدید طریقہ کار سے استفادہ کرنے پر بھی اتفاق کیا، معاہدوں کے تحت تربیتی پروگراموں، مطالعاتی دوروں، ماہرین کے تبادلے اور مشترکہ تکنیکی منصوبوں کی راہ ہموار ہوگی۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داریاں پاکستان کے توانائی اداروں کو مضبوط بنانے اور پاور سیکٹر میں اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے بجلی مارکیٹ اصلاحات، ٹرانسمیشن سسٹم کی ترقی، تقسیمی شعبے کی جدیدکاری اور نجکاری کے بعد کے گورننس فریم ورک سے متعلق تجربات سے بھرپور استفادہ کرے گا، ان کا کہنا تھا کہ اداروں کے درمیان قریبی تعاون سے عملی معلومات اور آپریشنل تجربات کا تبادلہ ہوگا، جس سے کارکردگی، خدمات کی فراہمی اور گورننس میں بہتری آئے گی۔
ترک فریق نے بھی پاکستان کے ساتھ طویل المدتی ادارہ جاتی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
حکومت پاکستان نے ان معاہدوں کو پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی مذاکرات کا اہم نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشتیں دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری کی عکاس ہیں۔