امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈ لاک، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

نیویارک: (ویب ڈیسک) ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے اور تیل بردار ٹینکرز پر حملوں کی اطلاعات کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تجارتی سرگرمیوں کے دوران خام تیل کی دونوں اہم اقسام کی قیمتوں میں ایک ڈالر سے زیادہ اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 1.45 ڈالر یا 1.67 فیصد اضافے کے بعد 88.52 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 1.15 ڈالر بڑھ کر 82.40 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

ہفتہ وار بنیاد پر بھی دونوں اقسام کے خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ برینٹ کی قیمت میں قریباً 6 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 5.4 فیصد ہفتہ وار اضافہ متوقع ہے۔

آئل مارکیٹ کے ماہر اینڈریو لیپوو نے کہا کہ نئے حملوں کی اطلاعات اور جنگ بندی کے معاہدے پر مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کے باعث ہفتے کے اختتام پر تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

انہوں نے خبردار کیاکہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر عائد رکاوٹیں برقرار رہیں تو صورتحال مزید سنگین ہوکر ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، اس لیے یہاں جہاز رانی میں کسی بھی طویل رکاوٹ سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہونے اور قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے واضح پیشرفت نہ ہونا اور ٹینکرز پر حملوں کی اطلاعات نے تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا محاذ کھولتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کسی بھی وقت آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے دے گا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...