گردوں کے غیر قانونی ٹرانسپلانٹ نیٹ ورک کے 2 ملزمان گرفتار

اسلام آباد:(دنیا نیوز)ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے کارروائی کرتے ہوئے انسانی گردوں کے غیر قانونی ٹرانسپلانٹ نیٹ ورک کے 2 اہم ملزمان گرفتار کرلیے۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مرکزی ایجنٹ شبیر حسین کو جلال پور بھٹیاں ضلع حافظ آباد سے گرفتار کیا، ملزم کے قریبی ساتھی اور مبینہ سب ایجنٹ غلام عباس کو میاں چنوں ضلع خانیوال سے پکڑا۔

دونوں ملزمان پر مالی طور پر کمزور افراد کو معمولی معاوضے کا لالچ دے کر گردے خریدنے کا الزام ہے، ایف آئی اے نے اسی مقدمے میں اسلام آباد سے ڈاکٹر نادر اور اس کی ٹیم کو گرفتار کیا تھا۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈاکٹر نادر مبینہ طور پر 187 غیر قانونی انسانی گردہ ٹرانسپلانٹس میں ملوث رہا، نیٹ ورک گردہ ٹرانسپلانٹ کے عوض 60 لاکھ، بعض کیسز میں ایک کروڑ روپے لیتا تھا۔

دوسری جانب یہ بات بھی سامنے آئی کہ گردہ عطیہ کرنے والے غریب افراد کو محض چند لاکھ روپے پر ٹرخایا جاتا تھا۔

تفتیشی حکام نے یہ بھی بتایا یکہ مرکزی ایجنٹ شبیر حسین سب ایجنٹس کے ذریعے پنجاب اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں سے غریب شہریوں کو لالچ دے کر گردہ عطیہ کرنے پر آمادہ کرتا تھا۔

علاوہ ازیں ڈاکٹر نادر کا مبینہ نیٹ ورک صرف پاکستانی شہریوں تک محدود نہیں تھا، نیٹ ورک افغان، چینی اور سعودی شہریوں کے گردہ ٹرانسپلانٹس میں بھی ملوث رہا ۔

مزید برآں غیر ملکی مریضوں کے ریکارڈ، مالی لین دین اور دیگر شواہد کا فرانزک آڈٹ بھی جاری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں