لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

ممبئی: (ویب ڈیسک) بھارت کی لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

آشا بھوسلے کو سینے میں انفیکشن کے سبب گزشتہ روز ہسپتال داخل کرایا گیا تھا، ان کی موت متعدد اعضا کے کام چھوڑ جانے کے سبب ہوئی۔

بیٹا آنند بھوسلے کے مطابق آشا بھوسلے کی آخری رسومات کل شام کو ادا کی جائیں گی۔

بھارتی موسیقی کی تاریخ کی ایک نہایت عظیم اور ہمہ جہت آواز اپنے پیچھے ایک ایسا ورثہ چھوڑ گئی ہے جس نے آٹھ دہائیوں سے زائد عرصے تک بھارتی سنیما اور موسیقی کی دنیا کو متاثر کیا۔

1933 میں پیدا ہونے والی آشا بھوسلے نے کم عمری میں موسیقی کا آغاز کیا، 1950 کی دہائی میں شہرت حاصل کی اور بالآخر دنیا کی معروف ترین پلے بیک گلوکاراؤں میں شمار ہونے لگیں، ان کی آوازچنچل، جذباتی اور بے حد ہمہ گیر تھی، انہوں نے کئی نسلوں کے موسیقی کے شائقین کو متاثر کیا۔

اپنے شاندار فنی سفر کے دوران انہوں نے ہزاروں گانے مختلف بھارتی زبانوں میں ریکارڈ کیے، جن میں کلاسیکی موسیقی، غزل، کیبریٹ، پاپ اور لوک موسیقی شامل ہیں، نامور موسیقاروں اور فلم سازوں کے ساتھ ان کے اشتراک نے ہندی سنیما کو بے شمار یادگار گانے دیے، جس سے وہ ایک دائمی ثقافتی علامت بن گئیں۔

ان کو موسیقی میں خدمات پر متعدد اعزازات سے نوازا گیا، جن میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور پدم بھوشن شامل ہیں، 2011 میں گنیز ورلڈ ریکارڈ نے انہیں موسیقی کی تاریخ میں سب سے زیادہ گانے ریکارڈ کرنے والی فنکارہ قرار دیا۔

اپنی آخری عمر میں بھی آشا بھوسلے موسیقی سے جڑی رہیں، کبھی کبھار پرفارم کرتی رہیں اور نئی نسل کے فنکاروں کو متاثر کرتی رہیں، ان کا اثر صرف پلے بیک سنگنگ تک محدود نہیں تھا بلکہ انہوں نے بھارتی موسیقی میں خواتین کی آواز کے کردار کو بھی نئی شکل دی۔

آشا بھوسلے کی ہمہ جہت صلاحیتیں بے مثال تھیں، روح پرور غزلوں سے لے کر مقبول گانوں تک ان کی مہارت نظر آتی ہے، لوک دھنوں سے لے کر پاپ تک، ان کی آواز بھارتی موسیقی کا ایک مکمل رنگا رنگ عکس رہی۔

آشا بھوسلے کے انتقال کی خبر پر غم کی لہر دوڑ گئی ہے، مداحوں، فنکاروں اور اہم شخصیات نے ان کی بے مثال خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں