اسرائیلی فوج کے غزہ میں حملے، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید
غزہ: (ویب ڈیسک) اسرائیلی فوج نے اپنی بربریت جاری رکھتے ہوئے غزہ میں حملے کیے جس سے 3 صحافیوں سمیت 8 افراد شہید ہو گئے۔
غزہ کی حماس کے زیرِ انتظام سول ڈیفنس ایجنسی نے بتایا کہ الزہرہ کے علاقے میں ان صحافیوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، ہلاک ہونے والے صحافیوں کی شناخت محمد صلاح قشطہ، انس غنیم اور عبد الرؤف شاعت کے نام سے کی گئی ہے، بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک مصری امدادی تنظیم کے لیے کام کر رہے تھے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ’حماس سے منسلک ڈرون چلانے والے متعدد مشتبہ افراد کو نشانہ بنایا جو ان کے فوجیوں کے لیے خطرہ بن رہے تھے، اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
اس کے علاوہ بھر میں اسرائیلی توپ خانے اور فائرنگ کے نتیجے میں مزید آٹھ افراد شہید ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں، ان ہلاکتوں کی تصدیق حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کی جانب سے کی گئی ہے۔
طبی عملے کے مطابق وسطی غزہ میں اسرائیلی ٹینک کی فائرنگ سے تین افراد، جن میں ایک 10 سالہ لڑکا بھی شامل ہے، شہید ہوئے، اسی طرح جنوبی علاقے خان یونس میں اسرائیلی فائرنگ سے ایک 13 سالہ لڑکا اور ایک خاتون شہید ہوئے۔
حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق 10 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک غزہ میں کم از کم 466 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسی مدت کے دوران فلسطینی مسلح گروہوں کے حملوں میں اس کے تین فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
اسرائیل نے لبنان کیخلاف ایک بار پھر جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔ الکفور قصبے میں کئی مقامات پر میزائل داغے گئے ہیں، جن میں حزب اللّٰہ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جنوبی لبنان میں یہ کارروائی حزب اللّٰہ کے ساتھ ایک سال پہلے طے کردہ جنگ بندی کے باوجود کی گئی ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق شام اور لبنان کی سرحد پر واقعہ چار کراسنگز کو نشانہ بنایا گیا ہے، اس موقع پر یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ حزب اللّٰہ ان کراسنگز کو سلحہ اسمگل کرنے کے لیے استعمال کرتی تھی تاہم اسکے شواہد پیش نہیں کیے گئے۔