روس کا پہلے بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان

ماسکو : (شاہد گھمن) روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے اعلان کیا ہے کہ روس بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔

ماسکو میں پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں ماریہ زخارووا نے کہا کہ روس آئندہ ہونے والے افتتاحی اجلاس میں اپنا وفد نہیں بھیجے گا۔ ان کے مطابق بورڈ آف پیس سے متعلق ماسکو کے مؤقف کی تشکیل پر کام جاری ہے۔

امریکا میں 19 فروری کو بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس منعقد ہونا ہے۔ اس تنظیم کے قیام کا اعلان رواں برس 22 جنوری کو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر کیا گیا تھا، جہاں 19 ممالک نے اس کے چارٹر پر دستخط کیے۔

بورڈ آف پیس کا قیام غزہ کی صورتحال کے حل کی کوششوں کے تحت کیا گیا ہے، یہ ادارہ اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان طے پانے والے انتظامی معاہدے کی بنیاد پر قائم کیا گیا، تاہم اس کا دائرہ کار دیگر خطوں میں تنازعات کی روک تھام اور حل تک بھی وسیع کیا گیا ہے۔

اس سے قبل روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ ماسکو اس اقدام کے حوالے سے اپنا مؤقف طے کر رہا ہے اور اس سلسلے میں مغربی اور مشرقی ممالک، بشمول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین، کے محتاط ردعمل کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ روس امریکا میں منجمد کیے گئے اپنے اثاثوں میں سے ایک ارب ڈالر بورڈ آف پیس کے لیے مختص کرنے کو تیار ہے، حتیٰ کہ اس سے پہلے کہ ماسکو اس میں شمولیت کا حتمی فیصلہ کرے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں