بغیر اجازت شادی پر شوہر کو پہلی بیوی کو 10 لاکھ حقِ مہر دینے کا حکم

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائی کورٹ نے بغیر اجازت شادی پر شوہر کو پہلی بیوی کو 10 لاکھ روپے حقِ مہر کی رقم دینے کا حکم دے دیا۔

جسٹس عابد حسین چھٹہ نے مہناز سلیم کی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا، عدالت نے درخواست گزار خاتون کی حقِ مہر، خرچ، سامانِ جہیز کی ویلیو کے مطابق رقم دینے کی درخواست منظور کر لی۔

لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں ترمیم کرتے ہوئے کہا کہ بیوی سے اجازت کے بغیر ایک اور شادی پر شوہر پہلی بیوی کو مہر کی رقم فوری دینے کا پابند ہے۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ بغیر اجازت دوسری شادی پر پہلی بیوی شادی معاہدہ ختم کرسکتی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے طلاق مؤثر ہونے تک پہلی بیوی کو ماہانہ 15 ہزار خرچ اور سامانِ جہیز کی ویلیو کے مطابق رقم ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی شق بیویوں کے مالی حقوق کے تحفظ اور من مانی شادیوں کو روکنے کے لیے ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار خاتون نے شوہر سے سامانِ جہیز اور نان نفقے کے لیے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا، موجودہ کیس میں 3 پوائنٹس حقِ مہر کی رقم، خرچہ اور سامانِ جہیز کی واپسی کا تنازع تھا، فیملی کورٹ نے عدت کے دوران 15 ہزار روپے خرچ اور حقِ مہر کے 10 لاکھ روپے ماہانہ 45 ہزار کی قسط کی صورت میں ادا کرنے کا حکم دیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ فیملی کورٹ نے بیوی کو سامانِ جہیز کی ویلیو کے مطابق 10 لاکھ 500 روپے ادا کرنے کا حکم دیا، فریقین نے فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل دائر کی، ٹرائل کورٹ نے شوہر کی اپیل جزوی منظور کرتے ہوئے حقِ مہر اور خرچ دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے سامانِ جہیز کی ویلیو بھی 10 لاکھ 500 روپے سے کم کر 4 لاکھ روپے کر دی، درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا، درخواست گزار کے مطابق شوہر نے بغیر اجازت تیسری اور پھر چوتھی شادی کی، درخواست گزار کے مطابق شوہر نے اسے 3 کپڑوں میں گھر سے نکال دیا، فیملی کورٹ کے مطابق شوہر نے زبانی طلاق دی، لہٰذا وہ صرف عدت کے عرصے تک خرچ دینے کا پابند ہے۔

عدالت کی جانب سے فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق شوہر نے زبانی طلاق دی جو کہ قانون کی نظر میں جائز نہیں، زبانی طلاق کے قانونی لوازمات پورے کیے بغیر میاں بیوی کے درمیان شادی برقرار رہتی ہے، بیوی کے گھر چھوڑنے پر قانونی جواز موجود ہو تو شوہر طلاق کے مؤثر ہونے تک ماہانہ خرچ دینے کا پابند ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق شوہر نے درخواست گزار کو صرف پہلی شادی کا بتایا جس میں بیوی فوت ہو چکی تھی، شادی کے بعد بیوی کو پتہ چلا کہ وہ پہلے سے دوسری شادی کر چکا ہے اور درخواست گزار تیسری بیوی ہے، فریقین کے درمیان یہی وجہ تنازع بنا اور درخواست گزار کو گھر سے نکال دیا گیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ بیوی نے نکاح نامے پر جعلی انٹری کے ذریعے مہر کی رقم 10 لاکھ روپے کی، شوہر کے مطابق بیوی اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئی، لہٰذا وہ خرچ کی حق دار نہیں، درخواست گزار نے شوہر کا گھر چھوڑنے کی ٹھوس وجوہات بتائیں۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ شوہر کا دوسری شادی کو چھپانا ریکارڈ سے ثابت ہوا ہے، اخلاقی طور پر شوہر کا فرض تھا کہ وہ نکاح کے وقت اپنی دوسری شادی کے بارے میں حقائق بتاتا، یہ کہیں ثابت نہیں ہوا کہ درخواست گزار نے اپنے مس کنڈکٹ یا نافرمانی کے باعث گھر چھوڑا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں