مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کی مسجد اقصیٰ میں آبادکاروں کی دراندازی کی مذمت

ابوظہبی: (ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات، اردن، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، پاکستان، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں آبادکاروں کی دراندازی کی مذمت کی ہے۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم کے اسلامی اور عیسائی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں بار بار کی جانے والی خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔

اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے مسجد اقصیٰ ، الحرم الشریف میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند وزراء کی پولیس کی حفاظت میں مسلسل دراندازی، نیز اس کے احاطوں میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی خصوصاً مذمت کی گئی۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسجد اقصیٰ ، الحرم الشریف میں اس نوعیت کی اشتعال انگیز کارروائیاں بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ناقابل قبول اشتعال انگیزی اور مقدس شہر کی حرمت کی سنگین پامالی ہیں۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و عیسائی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا، اور اس ضمن میں ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو تسلیم کیا۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسجد اقصیٰ ، الحرم الشریف کا پورا علاقہ، جو 144 دونم پر مشتمل ہے، صرف مسلمانوں کے لیے عبادت کی جگہ ہے اور یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ، جو اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے منسلک ہے، اس کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کو منظم کرنے کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

وزرائے خارجہ نے غیر قانونی آبادکاری کی تیز رفتار سرگرمیوں کی بھی مذمت کی، جن میں اسرائیل کی جانب سے 30 سے زائد نئی بستیاں قائم کرنے کی منظوری شامل ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور 2024 میں بین الاقوامی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے سمیت بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد، بشمول فلسطینی سکولوں اور بچوں پر حالیہ حملوں کی بھی مذمت کی اور ذمہ داران کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں ہے، اور کسی بھی قسم کے الحاق یا فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی کوششوں کو یکسر مسترد کیا۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اس قسم کے اقدامات فلسطینی ریاست کے قیام کی عملداری اور دو ریاستی حل پر براہ راست حملہ ہیں، جو کشیدگی میں اضافہ کرتے، امن کی کوششوں کو کمزور کرتے اور کشیدگی میں کمی اور استحکام کی بحالی کے لیے جاری اقدامات میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔

انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے اور اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں خطرناک کشیدگی کو روکنے اور غیر قانونی اقدامات ختم کرنے پر مجبور کرے۔

وزرائے خارجہ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے واضح اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک جامع امن کے لیے سیاسی حل کی طرف پیش رفت کی جائے جو دو ریاستی حل پر مبنی ہو۔

وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق، خصوصاً حق خودارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں