پاک روس تعلیمی تعلقات میں تیزی کیلئے بین الاقوامی کانفرنس اگلے ماہ ہوگی
ماسکو: (شاہد گھمن سے) پاکستان اور روس کے درمیان تعلیمی روابط کو مزید فروغ دینے کیلئے دوسری روس – پاک بین الاقوامی کانفرنس 12 سے 17 مئی 2026 تک روس کے شہر قازان میں منعقد ہوگی۔
’’بدلتے عالمی نظام میں روس–پاک تعلقات کا ارتقا‘‘ کے عنوان سے یہ کانفرنس عالمی سطح پر معروف ’’روس–اسلامک ورلڈ قازان فورم 2026‘‘ کے تحت منعقد کی جائے گی، جس میں دنیا بھر سے ماہرین، محققین اور پالیسی ساز شرکت کریں گے۔
کانفرنس کا انعقاد قازان فیڈرل یونیورسٹی اور وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی اسلام آباد کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے، جبکہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اور کنسورشیم فار ایشیا پیسیفک اینڈ یوریشین سٹڈیز (کیپس) بھی اس میں تعاون کر رہے ہیں۔
یہ کانفرنس پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری (وائس چانسلر، وفاقی اردو یونیورسٹی) اور پروفیسر ڈاکٹر لینار ریناٹو وچ سافن (ریکٹر، کازان فیڈرل یونیورسٹی) کی سرپرستی میں منعقد ہو رہی ہے، جبکہ پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ خورئیف اور روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی بھی اس کی سرپرستی کر رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کی عکاسی ہے۔
کانفرنس فروری 2025 میں کراچی میں منعقد ہونے والی پہلی پاک–روس کانفرنس کی کامیابی کا تسلسل ہے، جسے دوطرفہ تعلیمی روابط میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا تھا۔
کانفرنس میں پاکستان سے اعلیٰ سطح تعلیمی وفد شرکت کرے گا، جس میں پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری، پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی (وائس چانسلر جامعہ کراچی)، پروفیسر ڈاکٹر غزالہ یاسمین (وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی صوابی) اور پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد (وائس چانسلر منہاج یونیورسٹی) سمیت دیگر سینئر اساتذہ، محققین اور بزنس کمیونٹی کے نمائندے شامل ہوں گے۔
کانفرنس کے دوران جیوپولیٹکس، علاقائی روابط، معاشی تعاون، سکیورٹی اور ثقافتی روابط سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ کانفرنس نہ صرف پاک–روس تعلیمی سفارتکاری کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی بلکہ تحقیق، اشتراک اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔