امریکی محکمۂ جنگ نے انڈو پیسیفک کمانڈ کا نام دوبارہ پیسیفک کمانڈ رکھ دیا

واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی محکمۂ جنگ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی انڈو پیسیفک کمانڈ (USINDOPACOM) کا نام باضابطہ طور پر دوبارہ امریکی پیسیفک کمانڈ (USPACOM) رکھ دیا گیا ہے۔

یہ کمانڈ یکم جنوری 1947 کو صدر ہیری ایس ٹرومین کے دور میں USPACOM کے نام سے قائم کی گئی تھی اور سات دہائیوں سے زائد عرصے تک اسی نام سے خدمات انجام دیتی رہی۔ یہ امریکی مشترکہ جنگی کمانڈز میں سب سے قدیم اور سب سے بڑی کمانڈ تصور کی جاتی ہے۔

محکمۂ جنگ کے مطابق تاریخی نام USPACOM کی بحالی کا مقصد کمانڈ کی طویل عسکری روایات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور بحرالکاہل کے خطے میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں میں فخر، وابستگی اور مشترکہ شناخت کے احساس کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کے قیام، کوریائی جنگ، ویتنام جنگ اور متعدد انسانی ہمدردی کی کارروائیوں میں مشترکہ افواج کی قیادت اور ہم آہنگی کے باعث USPACOM کا نام کئی دہائیوں پر محیط عسکری ورثے اور مضبوط علاقائی شراکت داریوں کی علامت بن چکا ہے۔

محکمۂ جنگ نے واضح کیا کہ نام کی تبدیلی کے باوجود کمانڈ کے دائرۂ کار میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، اس کی ذمہ داری امریکہ کے مغربی ساحل سے ملحقہ سمندری علاقوں سے لے کر بھارت کی مغربی سرحد تک برقرار رہے گی، جبکہ علاقائی اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک آزاد اور کھلے خطے کے تحفظ کا مشن بھی بدستور جاری رہے گا۔ 

واشنگٹن کی جانب سے امریکی پیسیفک کمانڈ (Pacific Command) کا نام بحال کرنے کے فیصلے کو بعض مبصرین جنوبی ایشیا سے متعلق امریکی اسٹریٹجک سوچ میں تبدیلی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ اس تجزیے کے مطابق امریکا اب خطے کو صرف بھارت کے تناظر میں نہیں بلکہ علاقائی طاقت کے توازن اور زمینی حقائق کی بنیاد پر دیکھنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برسوں میں بھارت کو انڈو پیسیفک حکمتِ عملی کے مرکزی ستون اور ایک ممکنہ "نیٹ سیکیورٹی فراہم کنندہ" کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، تاہم پاکستان کے ساتھ بار بار پیدا ہونے والے بحرانوں نے یہ ظاہر کیا کہ نئی دہلی نہ تو ایک جوہری ہمسایہ ملک پر اپنی سیاسی شرائط مسلط کر سکا اور نہ ہی بیرونی سفارتی مداخلت کے بغیر علاقائی کشیدگی پر مؤثر انداز میں قابو پا سکا۔

تجزیے کے مطابق جو ریاست مسلسل ایسے بحرانوں کا باعث بنے جن کے حل کے لیے بین الاقوامی مداخلت درکار ہو، اس کے لیے بلاچیلنج علاقائی قیادت کا دعویٰ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی تناظر میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ واشنگٹن چین کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک مسابقت کو بھارت کی دوطرفہ محاذ آرائیوں سے الگ رکھنا چاہتا ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکا کا ابھرتا ہوا نقطۂ نظر زیادہ عملی ہے، جس کے تحت بھارت بدستور سمندری، تکنیکی اور اقتصادی تعاون کے بعض شعبوں میں اہم شراکت دار رہے گا، تاہم جنوبی ایشیا میں اسے غیر محدود اسٹریٹجک حیثیت حاصل نہیں رہے گی۔

دوسری جانب تجزیے میں پاکستان کی اہمیت کو اس کے اسٹریٹجک محلِ وقوع، جوہری بازدار صلاحیت، عسکری استعداد، انٹیلی جنس نیٹ ورک، افغانستان، وسطی ایشیا اور خلیجی ممالک تک رسائی، نیز انسدادِ دہشت گردی اور علاقائی استحکام میں کردار سے جوڑا گیا ہے۔

تجزیے کے مطابق بنیادی پیغام یہ ہے کہ امریکا اب بھارت کا جائزہ اس کے دعوؤں کے بجائے عملی نتائج کی بنیاد پر لے رہا ہے، جبکہ پاکستان کو بتدریج ایک ایسے اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کی اہمیت اس کی صلاحیتوں اور علاقائی اثر و رسوخ سے وابستہ ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں بھارت کی اسٹریٹجک حیثیت کو نظریاتی بنیادوں پر فروغ دیا گیا تھا، جس کی ایک علامت 2018 میں پیسیفک کمانڈ کا نام تبدیل کرکے انڈو پیسیفک کمانڈ رکھنا تھا۔ تاہم آٹھ برس بعد بدلتے ہوئے حالات اور علاقائی تجربات کے بعد، ٹرمپ کے دوسرے دور میں توجہ امیدوں کے بجائے عملی کارکردگی اور قابلِ پیمائش نتائج پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

اس تجزیے کے مطابق پیسیفک کمانڈ کے نام کی ممکنہ بحالی اسی تبدیلی کی علامت سمجھی جا رہی ہے، جو امریکی اسٹریٹجک سوچ میں خواہشات کے بجائے زمینی حقائق کو زیادہ اہمیت دینے کی عکاسی کرتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں