چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے پہلے ’پنجاب جوڈیشل انفراسٹرکچر مینجمنٹ سسٹم‘ افتتاح کردیا
لاہور: (محمد اشفاق ) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے عدالتی تاریخ کے پہلے ’پنجاب جوڈیشل انفراسٹرکچر مینجمنٹ سسٹم‘ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور شفافیت کو یقینی بنانے کی جانب ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم کی خصوصی ہدایات پر نیا سسٹم شروع کیا گیا۔
یہ جدید ترین ڈیجیٹل پلیٹ فارم پاکستان کی عدلیہ میں اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے جس کا بنیادی مقصد پنجاب بھر کی تحصیلوں میں موجود عدالتی انفراسٹرکچر کی ڈیجیٹل نگرانی، موثر منصوبہ بندی اور وسائل کی شفاف تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔
جدید پروگرام کی بدولت صوبہ بھر کی تحصیلوں میں موجود جوڈیشل کمپلیکسز اور وہاں جوڈیشل افسران، وکلاء اور سائلین کو دستیاب تمام بنیادی سہولیات کی تفصیل صرف ایک کلک پر میسر ہوگی۔
افتتاحی تقریب سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے کہا کہ جوڈیشل انفراسٹرکچر مینجمنٹ سسٹم (JIMS) کا اجرا انصاف کی فراہمی کے عمل کو تیز، شفاف اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس جدید سسٹم کے ذریعے ڈیٹا بیسڈ فیصلوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے تحصیلوں تک عدالتی نظام میں انقلابی بہتری آئے گی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سسٹم نہ صرف عدالتی انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی اور نگرانی میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ اس سے وسائل کے زیادہ موثر اور شفاف استعمال کو یقینی بنایا جا سکے گا، جس کا حتمی فائدہ عام سائلین تک انصاف کی تیز رفتار رسائی کی صورت میں پہنچے گا۔
انہوں نے پروگرام تیار کرنے والی آئی ٹی ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا، اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل جوڈیشل اینڈ کیس مینجمنٹ جاوید اقبال بوسال بھی موجود تھے۔
ایڈیشنل رجسٹرار آئی ٹی نے سسٹم پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ (JIMS) ایک جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس کے تحت پنجاب بھر کے تمام عدالتی کمپلیکسز، جوڈیشل رہائشی سہولیات اور تعمیراتی منصوبوں کو ایک ہی مربوط ڈیجیٹل نیٹ ورک سے منسلک کر دیا گیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس سسٹم میں موجود جدید ڈیش بورڈ کی بدولت عدالتی سہولیات، زیر تکمیل ترقیاتی منصوبوں اور عدالتی عمارتوں کی حالت کی رئیل ٹائم مانیٹرنگ اور فوری جائزہ لینا ممکن ہو سکے گا۔
ایڈیشنل رجسٹرار آئی ٹی نے مزید کہا کہ یہ نظام شفافیت، ادارے کی استعداد کار میں اضافے اور بہتر سروس ڈیلیوری کو فروغ دینے کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا، جس سے وسائل کے ضیاع کو روک کر ترجیحی بنیادوں پر عدالتی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے بروقت فیصلے کیے جا سکیں گے۔