بلیک میلنگ مقدمہ: عدالت ناقص تفتیش پر برہم، سی پی او فیصل آباد طلب
لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے نازیبا ویڈیو کے ذریعے خاتون کو بلیک میل کرنے کے مقدمے میں نامزد ملزم عثمان عرف کاکا کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کرتے ہوئے ناقص تفتیش پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور سی پی او فیصل آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے درخواست پر سماعت کی، دورانِ سماعت تفتیشی افسر عدالت میں پیش نہ ہوا جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اتنے حساس نوعیت کے مقدمے میں نہ مؤثر تفتیش کی گئی اور نہ ہی فرانزک شواہد اکٹھے کئے گئے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ ایسے سنگین الزامات کے باوجود فرانزک تجزیہ کیوں نہیں کرایا گیا اور تفتیش میں بنیادی تقاضے کیوں پورے نہیں کئے گئے۔
ملزم عثمان عرف کاکا کی جانب سے وکیل عرفان کلار نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کا وقوعہ سے کوئی تعلق نہیں اور اصل ملزم کو بچانے کیلئے صرف ہم نام ہونے کی بنیاد پر اسے مقدمے میں ملوث کر دیا گیا ہے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نازیبا ویڈیو کے ذریعے خاتون کو بلیک میل کرنے کے الزامات بے بنیاد ہیں اور استغاثہ کے پاس درخواست گزار کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔
وکیلِ صفائی نے استدعا کی کہ درخواست گزار کو بلاجواز مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے، لہٰذا عدالت اس کی درخواستِ ضمانت منظور کرے، عدالت نے ناقص تفتیش اور تفتیشی افسر کی عدم پیشی پر سی پی او فیصل آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے مزید سماعت 21 جولائی تک ملتوی کر دی۔