صرف بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقلی انسانی سمگلنگ کا ثبوت نہیں، لیبیا کشتی حادثے کے ملزم کی ضمانت منظور

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے لیبیا کشتی حادثہ اور انسانی سمگلنگ کیس کے ملزم محمد طاہر کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف کسی شخص کے بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہونا انسانی سمگلنگ میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں۔

جسٹس محمد امجد رفیق نے 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ بینک اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی محض ایک مشکوک صورتحال پیدا کر سکتی ہے، تاہم صرف اسی بنیاد پر کسی شخص کو انسانی سمگلنگ یا منظم جرائم پیشہ گروہ کا رکن قرار نہیں دیا جا سکتا۔

لاہور ہائیکورٹ کے مطابق استغاثہ پر لازم ہے کہ وہ ٹھوس، قابل قبول اور آزاد شواہد کے ذریعے ملزم کے جرم میں دانستہ اور فعال کردار کو ثابت کرے۔

عدالت کے مطابق اپریل 2026 میں لیبیا کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی حادثے میں 73 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جن میں پاکستانی شہری امیر حمزہ شوکت بھی شامل تھا۔

مقدمے میں الزام تھا کہ اٹلی بھجوانے کے نام پر لاکھوں روپے وصول کیے گئے، جن میں 9 لاکھ روپے محمد طاہر کے نام پر موجود مدینہ ٹریڈرز کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی اے کی تفتیش کے مطابق مذکورہ اکاؤنٹ اگرچہ محمد طاہر کے نام پر تھا، تاہم اسے درحقیقت اکبر علی استعمال کر رہا تھا جبکہ تفتیشی ادارہ محمد طاہر کے خلاف ایسا کوئی آزاد اور مضبوط ثبوت پیش نہیں کر سکا جس سے اس کا انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک سے تعلق ثابت ہو۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ انسانی اسمگلنگ جیسے مقدمات میں صرف شبہ، قیاس آرائی یا بینک ٹرانزیکشن کافی نہیں، بلکہ جرم کی منصوبہ بندی، مالی معاونت، رابطہ کاری یا سہولت کاری میں دانستہ شرکت کے شواہد ضروری ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ اس نوعیت کے مقدمات میں واٹس ایپ چیٹس، موبائل فون ڈیٹا، کال ریکارڈ، سفری دستاویزات، ٹریول ہسٹری، گواہوں کے بیانات، سوشل میڈیا ریکارڈ، ڈیجیٹل شواہد اور بین الاقوامی معلومات بھی اکٹھی کی جانی چاہئیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کی تفتیش پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا سمیت متعلقہ ممالک سے قانونی معاونت اور بین الاقوامی تعاون حاصل نہیں کیا گیا جبکہ انسانی اسمگلنگ سے متعلق قوانین میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے قانون سازی کی بھی ضرورت ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مقدمے میں محمد طاہر کے خلاف شواہد مزید تفتیش کے معیار سے آگے نہیں بڑھتے، لہٰذا اسے 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض بعد از گرفتاری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ فیصلے میں کی گئی آبزرویشنز ابتدائی نوعیت کی ہیں اور ٹرائل کے حتمی فیصلے پر اثرانداز نہیں ہوں گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...