طالبان رجیم کی غیرجمہوری اور پُرتشدد پالیسیوں کے باعث افغانستان عالمی تنہائی کا شکار

کابل: (دنیا نیوز) انتہاپسندانہ اقدامات اورانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث دنیا کے کسی بھی ملک نے اب تک طالبان رجیم کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا۔

امریکی پالیسی ساز افغانستان کو اپنی ترجیحات سے خارج کر چکے اور اب اسے محض ایک ناکام ریاست اور ماضی کا قصہ تصورکیا جا تا ہے۔

معروف عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق 2021 میں افغانستان سے انخلا کے بعد سے اب تک امریکہ نے طالبان رجیم کوجائز حکومت کے طور پرتسلیم نہیں کیا، 31 اگست 2021 سے کابل کے امریکی سفارتخانے کی تمام سفارتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہیں۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے2025 کے وسط سے افغانستان کیلئے تمام امریکی امداد بند کررکھی ہے، امریکہ افغان شہریوں کیلئے سپیشل امیگرنٹ سمیت تمام اقسام کے ویزوں کا اجرا بھی معطل کر چکا ہے، امریکہ نے طالبان کی جانب سے اپنے شہریوں کی گرفتاریوں کو یرغمال سفارت کاری قرار دیا تھا، تاہم افغانستان کو واشنگٹن کی نیشنل سکیورٹی اسٹریٹیجی 2025 اور نیشنل ڈیفنس اسٹریٹیجی 2026 دونوں میں شامل نہیں کیا گیا۔

اقوام متحدہ میں تعینات امریکی سفیرمائیک والٹزکےمطابق امریکا ایسے گروہ کیساتھ پُراعتماد تعلقات قائم نہیں کر سکتا جو بے گناہ امریکیوں کو قید رکھے اورافغان عوام کو نظرانداز کرے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...