میر رضا علی کیس: پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جسم پر متعدد چوٹوں اور فائر آرم انجری کا انکشاف
کراچی: (دنیا نیوز) نوجوان تاجر میر رضا علی کی پراسرار موت کے کیس میں دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی، جس میں جسم کے مختلف حصوں پر متعدد چوٹوں، فریکچر اور فائر آرم انجری کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کے سر کے دائیں حصے پر گہرا زخم موجود تھا، ناک کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی جبکہ سر کے مختلف حصوں میں خون جمع ہونے کے شواہد ملے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میر رضا علی کے منہ اور گردن کے اندر سیاہ رنگ کا مادہ موجود تھا، تاہم Hyoid bone درست حالت میں پائی گئی۔
فارنزک رپورٹ کے مطابق سینے کے دائیں جانب نپل کے قریب گولی کا زخم موجود تھا، جس کا سائز تقریباً 0.8 سینٹی میٹر بتایا گیا ہے، گولی کے داخلی زخم کے کناروں اور اردگرد کے پٹھوں پر سیاہ رنگ کے نشانات بھی پائے گئے، جبکہ دائیں جانب کی پسلی ٹوٹی ہوئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق گولی سینے کے دائیں جانب سے داخل ہوکر دل کے اگلے حصے تک پہنچی۔ دل پر دو سرکل کٹ یا زخم موجود تھے، گولی دل کو متاثر کرنے کے بعد بائیں جانب پسلی کے قریب سے باہر نکلی، جہاں Exit wound بھی موجود پایا گیا۔
اندرونی معائنے کے دوران دماغ بظاہر شکل و ساخت کے اعتبار سے برقرار پایا گیا، جبکہ پھیپھڑوں اور سینے میں گولی کے داخلی اور خارجی راستے کے شواہد موجود تھے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پیٹ اور نظام انہضام کے آخری حصے میں نیم ہضم شدہ غذا جبکہ بڑی آنت میں سیال مادہ موجود تھا۔
دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کے پاؤں پر بھی زخموں کے نشانات پائے گئے، جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر خون کے دھبوں کی موجودگی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں میر رضا علی کی دائیں ران پر تقریباً 12 سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ جبڑے کے حصے میں گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد بھی ملے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جسم پر پائے جانے والے زخم موت سے قبل لگنے والی چوٹوں کے زمرے میں آتے ہیں۔
وکیل جبران ناصر کا پولیس پر تفتیش میں غفلت اور اہلخانہ کو ہراساں کرنے کا الزام
دوسری جانب میر رضا علی کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس کی تفتیش پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ پولیس تفتیش کے نام پر خاندان کے ازدواجی اور مالی معاملات سے متعلق خبریں چلوا رہی ہے اور خاندان کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جبران ناصر نے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکار اہلخانہ کو گھنٹوں دفتر میں بٹھا کر واقعے کو خودکشی تسلیم کرنے پر زور دیتے رہے، ان کے مطابق میڈیکل بورڈ کے سامنے 14 سوالات رکھے گئے تھے اور ان کے جوابات موصول ہوگئے ہیں۔
وکیل نے کہا کہ میر رضا علی کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے، چہرے کے مختلف حصوں پر چوٹیں، پسلیوں کے ٹوٹنے اور پاؤں کے انگوٹھے پر انجری کے شواہد بھی ملے ہیں، ان کے مطابق جسم سے سیاہ رنگ کا مادہ بھی ملا ہے، جس کی مزید جانچ کی ضرورت ہے۔
جبران ناصر نے موجودہ تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پوری تفتیشی ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ میر رضا علی کی موت کے معاملے میں تمام شواہد کی بنیاد پر تفتیش ہونی چاہیے۔
میر رضا علی کے والد نے بھی گفتگو میں کہا کہ خاندان 30 تاریخ سے یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا، تاہم پولیس خودکشی کے مؤقف پر زور دیتی رہی، ان کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے پر تشدد کے حوالے سے بھی خاندان پہلے ہی پولیس کو آگاہ کرچکا تھا۔
بیٹے سے متعلق غلط خبریں پھیلائی گئیں: والد میر رضا علی
والد میر رضا علی نے کہا کہ ان کے بیٹے سے متعلق غلط خبریں پھیلائی گئیں اور اگر واقعہ خودکشی کا ہوتا تو رپورٹ سامنے آتی، انہوں نے کہا کہ خاندان اپنے وکیل جبران ناصر کے مؤقف کے ساتھ کھڑا ہے جبکہ قتل میں ملوث عناصر کے بارے میں انہیں معلوم نہیں، پولیس کو اس معاملے کی مکمل معلومات ہیں۔
سامنے آنے والے شواہد سے ہمارا مؤقف درست ثابت ہوا: والدہ میر رضا علی
میر رضا علی کی والدہ نے کہا کہ پوسٹ مارٹم سے قبل جو کچھ انہوں نے دیکھا تھا، اسی بنیاد پر وہ اسے قتل قرار دے رہی تھیں، ان کے مطابق اب سامنے آنے والے شواہد سے ان کا مؤقف درست ثابت ہوا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments