بلاول بھٹو کا پارلیمان کو فعال بنانے پر زور، اپوزیشن کو کمیٹیوں میں واپسی کی دعوت

اسلام آباد:(دنیا نیوز) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمان کو فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پارلیمان کو عزت دی اور چاہتی ہے کہ پارلیمان مؤثر انداز میں اپنا کردار ادا کرے۔

وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو  کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمان کو عزت دینی ہے تو پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں کو فعال کرنا ہوگا، اپوزیشن کو قائمہ کمیٹیوں میں واپس آکر اصلاحات کے عمل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، امید ہے اپوزیشن جماعتیں اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے الیکٹورل ریفارمز میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے، موجودہ صورتحال میں اپوزیشن اور حکومتی بینچز دونوں جانب سے الیکشن پراسس سے متعلق شکایات سامنے آ رہی ہیں جب کہ اپوزیشن، حکومتی اتحادی اور حکومتی وزرا بھی الیکشن پراسس پر تنقید کر رہے ہیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ الیکشن پراسس سے متعلق اعتراضات کو دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، قائمہ کمیٹیوں میں واپس آکر اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے اور صوبوں کے معاملے پر عوام کی رائے کے ساتھ کھڑی ہوگی، زبردستی کوئی فیصلہ مسلط کرنے کی حمایت نہیں کریں گے، جو فیصلہ کل زبردستی سے قبول نہیں کیا، آج بھی نہیں مانیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے معاملے پر پہلے سے اتفاق رائے موجود ہے، تاہم سندھ میں نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا مؤقف سب کے سامنے واضح ہے جہاں اتفاق رائے موجود نہیں، وہاں نئے صوبے نہیں بنانے چاہئیں۔ 

پیپلزپارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ علاج ہر قیدی کا حق ہے، بہتر ہوتا سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے حکومت خود یہ قدم اٹھاتی  جب کہ حکومت کی جانب سے کسی آئینی ترمیم کا کوئی نکتہ ابھی ان کے سامنے نہیں آیا۔ 

 بلاول بھٹو نے کہا کہ 26 ویں ترمیم کے حوالے سے پہلے بھی اپنا مؤقف بیان کیا تھا اور 27ویں ترمیم کا بھی حوالہ دیا ہے, اگر کسی ترمیم کا کوئی نکتہ سامنے آتا ہے تو اس پر بات کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک ساتھ انتخابات ہوتے تو آزاد کشمیر میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہوتی۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے واضح کیا کہ پیپلزپارٹی کی توجہ ان ہاؤس تبدیلی پر نہیں، تاہم اعتراضات دور ہونے تک مسلم لیگ ن کے ساتھ کوئی تعاون نہیں ہوگا, قومی مفاد کے معاملات میں ن لیگ کے ساتھ تعاون کیا جا سکتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک پیج پر ہیں یا نہیں، اس پر وہ تبصرہ نہیں کرسکتے، پیج ایک بھی ہوسکتا ہے، لیکن ’دال میں کچھ کالا ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ وزیراعظم کے قریب لوگ ان کی کوششوں کو ناکام بناتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...