روس اور بیلاروس کے صدور کی ملاقات، تجارت اور عالمی امور پر گفتگو

ماسکو: (شاہد گھمن) روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے تجارتی و اقتصادی تعاون، مائیکرو الیکٹرانکس، یونین اسٹیٹ کے امور اور موجودہ بین الاقوامی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ روس اور بیلاروس یونین اسٹیٹ کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونین اسٹیٹ کی کونسل آف منسٹرز کا اجلاس مستقبل قریب میں متوقع ہے۔

روسی صدر کے مطابق دونوں ممالک اقوام متحدہ، دولت مشترکہ آزاد ریاستوں، شنگھائی تعاون تنظیم اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز پر بھی مل کر کام کر رہے ہیں، جبکہ یہ امور موجودہ ملاقات کے ایجنڈے کا بھی حصہ ہیں۔

بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے ملاقات پر صدر پوتن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ براہ راست رابطوں کے ذریعے ان معاملات پر فیصلے کرنا آسان ہوجاتا ہے جن پر دونوں ممالک کی قیادت کی توجہ درکار ہو۔

لوکاشینکو نے کہا کہ روس اور بیلاروس کے درمیان عملی طور پر کوئی بڑا حل طلب مسئلہ باقی نہیں، جبکہ دونوں حکومتیں مؤثر انداز میں کام کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایک روز قبل روسی وزیراعظم میخائل میشوسٹن کے ساتھ بھی دونوں ممالک کے تعاون سے متعلق اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

بیلاروسی صدر نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں کم از کم 12 فیصد اضافہ ہو رہا ہے اور حتمی اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد توقع ہے کہ رواں سال تجارتی حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت میں جدید الیکٹرانکس کا حصہ بھی اہم ہے اور روس و بیلاروس مائیکرو الیکٹرانکس کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو یکجا کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

لوکاشینکو کے مطابق روس کے فرسٹ ڈپٹی وزیراعظم دنیس مانتوروف نے بیلاروس کے متعلقہ صنعتی اداروں کا دورہ بھی کیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک نے مائیکرو الیکٹرانکس کے شعبے میں تعاون کو عملی طور پر آگے بڑھانا شروع کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس اور بیلاروس اپنی ضروریات کے لیے مائیکرو الیکٹرانکس مصنوعات مشترکہ طور پر تیار کر رہے ہیں اور مستقبل میں اس شعبے میں مزید اعلیٰ سطح تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بیلاروسی صدر نے مزید کہا کہ زراعت، خوراک کی فراہمی، ایندھن اور دیگر شعبوں میں بھی دونوں ممالک باہمی معاہدوں پر عملدرآمد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

موجودہ بین الاقوامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے لوکاشینکو نے کہا کہ عالمی تعلقات میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں روس اور بیلاروس کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل مشاورت کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔

انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ دونوں ممالک مشترکہ کوششوں سے تمام مشکلات پر قابو پالیں گے۔ ان کے مطابق موجودہ ملاقات میں نئے فیصلوں کے بجائے اب تک حاصل ہونے والے نتائج اور جاری تعاون کی پیش رفت کا جائزہ لینے پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...