وزیراعظم فیول ریلیف سکیم کی رجسٹریشن مفت، سابقہ پابندی ختم کردیں: شزا فاطمہ
اسلام آباد:(دنیا نیوز) وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم فیول ریلیف سکیم کی رجسٹریشن مفت، سابقہ پابندی ختم کر دیں۔
وفاقی دارالحکومت سے جاری اپنے بیان میں شزہ فاطمہ کا کہنا تھاکہ کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کے لیے خصوصی فیول ریلیف پروگرام شروع کیا ہے، حکومت پٹرولیم مصنوعات پر عوام کو مزید مختلف طریقوں سے ریلیف فراہم کرے گی۔
اُنہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر فیول ریلیف سکیم کے لیے رجسٹریشن کا پیغام مکمل طور پر مفت کردیا گیا ہے جب کہ پٹرول ریلیف کے حوالے سے عائد سابقہ پابندی بھی ختم کردی گئی ہے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی نے شہریوں کو خبردار کیا کہ اپنی حساس معلومات اور ذاتی ڈیٹا کسی غیرمصدقہ شخص یا ذریعے کے ساتھ شیئر نہ کریں اور رجسٹریشن صرف مقررہ طریقہ کار کے مطابق کریں۔
شزہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ 5 لیٹر سے کم پٹرول ڈلوانے والے موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ مالکان کو ہفتہ وار 500 روپے کی رعایت ملے گی، یکم جنوری 2006ء کے بعد رجسٹرڈ ہونے والے تمام موٹر سائیکل، رکشے اور چنگ چی بھی سکیم میں رجسٹریشن کے اہل ہوں گے، جبکہ ایک ٹوکن پر 5 لیٹر پٹرول کی حد بھی ختم کردی گئی ہے۔
اُنہوں نے بتایا کہ 14 سے 19 ستمبر کے دوران تقریباً 17 لاکھ 50 ہزار شہری فیول ریلیف سکیم میں شامل ہوئے، جن میں 91.6 فیصد رجسٹریشنز دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی ہیں، 18 ستمبر کو ایک ہی روز 5 لاکھ 11 ہزار 961 شہری رجسٹرڈ ہوئے، جو سکیم میں رجسٹریشن کے حوالے سے مصروف ترین دن رہا۔
وفاقی وزیر آئی ٹی نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ 14 ستمبر کو 38 ہزار 974، 15 ستمبر کو ایک لاکھ 49 ہزار 412، 16 ستمبر کو 3 لاکھ 49 ہزار 935، 17 ستمبر کو 3 لاکھ 85 ہزار 406 جبکہ 18 ستمبر کو 5 لاکھ 11 ہزار 961 رجسٹریشنز ہوئیں۔
شزہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے ایک لاکھ 21 ہزار 991 فیول ٹوکن جاری کیے جاچکے ہیں، جبکہ 18 ستمبر کو ایک ہی روز 4 لاکھ 87 ہزار 196 فیول ٹوکن جاری کیے گئے، اب تک 6 لاکھ 55 ہزار 67 شہری فیول ریلیف حاصل کرچکے ہیں۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی شکایت کی صورت میں شہری 9771 پر رابطہ کرسکتے ہیں، حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کو پٹرولیم مصنوعات پر زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments