یوکرینی حملے روسی انتخابات متاثر نہ کرسکے، مذاکرات کیلئے تیار ہیں: کریملن
ماسکو:(شاہد گھمن) روسی صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس میں انتخابات کے دوران یوکرین کے بڑے پیمانے پر حملوں کا مقصد ووٹنگ میں خلل ڈالنا تھا، تاہم یہ کوششیں انتخابی عمل پر اثرانداز نہیں ہوسکیں، انہوں نے کہا کہ یوکرین تنازع کے تصفیے میں تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، البتہ ماسکو سہ فریقی مذاکرات کی بحالی کے لیے تیار ہے۔
میڈیا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس کو امید ہے کہ یوکرین کے معاملے پر سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی جانب پیش رفت ہوگی۔
انتخابات کے دوران یوکرینی حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان نے انہیں تخریب کاری اور انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کی کوشش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
یوکرین تنازع کے حل میں پیش رفت سے متعلق سوال پر دیمتری پیسکوف نے کہا کہ ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس سہ فریقی مذاکرات کی بحالی کے لیے آمادہ ہے، جبکہ مقرر کردہ اہداف کے حصول کے لیے خصوصی فوجی آپریشن بھی جاری ہے اور روسی فوجی ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کام کررہے ہیں۔
روسی صدر کی سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی دھڑوں کے رہنماؤں سے ملاقات کے حوالے سے پیسکوف نے بتایا کہ صدر ولادیمیر پوتن ایسی ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ہر مرتبہ یہ ملاقات کرتے ہیں اور اس بار ملاقات کس شکل میں ہوگی، اس کی تفصیلات مناسب وقت پر جاری کردی جائیں گی۔
صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کے طریقۂ کار سے متعلق دیمتری پیسکوف نے کہا کہ کریملن تمام صحافیوں کے ساتھ کام کرتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس میں وائٹ ہاؤس کی طرز پر ذرائع ابلاغ کی رسائی محدود کرنے کا طریقہ اختیار نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکام اپنے ذرائع ابلاغ کے ساتھ کس طرح معاملات چلاتے ہیں، یہ امریکا کا اندرونی معاملہ ہے۔ روس اس میں مداخلت نہیں کرتا اور نہ ہی اپنے معاملات میں دوسروں کی مداخلت پسند کرتا ہے۔
روس اور چین کے درمیان اطلاعاتی تعاون پر گفتگو کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان نے کہا کہ مختلف سطحوں پر یہ تعاون انتہائی مثبت انداز میں فروغ پارہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے بڑے ذرائع ابلاغ اور میڈیا گروپس کے ساتھ روسی صدارتی انتظامیہ اور وزارتِ خارجہ کی سطح پر بھی اطلاعاتی رابطے مؤثر انداز میں جاری ہیں۔
عالمی خبر رساں اداروں کے کردار کے حوالے سے دیمتری پیسکوف نے کہا کہ دنیا میں جاری تبدیلیوں کے دوران ان اداروں کو غیر معمولی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک جانب ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کررہی ہے، جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی نظام میں تبدیلیوں کے اثرات سامنے آرہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے، جس میں عالمی معیشت، سیاسی نظام، اطلاعات اور بین الاقوامی تعلقات، سبھی تبدیلی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔
کریملن کے ترجمان نے اطلاعاتی جنگوں اور جعلی خبروں کے دور میں خبر رساں اداروں کے کردار کو نہایت اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارے عالمی اطلاعاتی بہاؤ میں مسلسل پھیلائے جانے والے جھوٹ کا مقابلہ کرکے ایک بنیادی ذمہ داری ادا کررہے ہیں۔
دیمتری پیسکوف نے کہا کہ عالمی حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اطلاعاتی جنگیں اور جعلی خبریں جلد ختم ہونے والی نہیں ہیں، بلکہ یہ سلسلہ مزید پھیلے گا اور نئی صورتیں اختیار کرے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments