ایک ہی الزام پر ایف آئی اے دوبارہ انکوائری نہیں کرسکتی: عدالت
اسلام آباد: (رضوان قاضی) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو ایک ہی واقعے اور انہی الزامات کی بنیاد پر دوبارہ انکوائری کرنے سے روک دیا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے میر اویس کی درخواست پر تین صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی اے پہلے سے زیرِ غور رہنے والے انہی الزامات پر محض دفتر یا تفتیشی افسر کی تبدیلی کی بنیاد پر نئی انکوائری شروع نہیں کرسکتی۔
تحریری فیصلے کے مطابق ایف آئی اے ایبٹ آباد پہلے ہی اسی واقعے اور الزامات کی انکوائری مکمل کرکے معاملہ بند کرچکی تھی، یہ انکوائری دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر مکمل کی گئی اور اسے باقاعدہ طور پر بند کردیا گیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ پہلی انکوائری بند ہونے کے کافی عرصے بعد ایف آئی اے اسلام آباد نے انہی الزامات پر دوبارہ کارروائی شروع کی، تاہم موجودہ انکوائری کسی نئے یا الگ واقعے سے متعلق نہیں بلکہ اسی واقعے اور انہی الزامات کی بنیاد پر ہے جن کا پہلے جائزہ لیا جاچکا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ایک ہی حقائق اور ایک ہی الزام کی بنیاد پر دوبارہ انکوائری کا عمل آئینی تحفظ کے منافی ہے، جبکہ پہلے مکمل کرکے بند کی گئی انکوائری کو دوبارہ نہیں کھولا جاسکتا، عدالت کے مطابق ایک ہی معاملے پر دوبارہ کارروائی کرنا ملزم کو ڈبل جیپرڈی، یعنی ایک ہی معاملے میں دوبارہ کارروائی کا سامنا کرنے کے مترادف ہے۔
عدالت نے ایف آئی اے اسلام آباد کی جانب سے شروع کی گئی بعد کی انکوائری اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت جاری نوٹس کو قانونی اختیار سے عاری قرار دے دیا۔
فیصلے میں ایف آئی اے اسلام آباد کو انہی حقائق کی بنیاد پر مزید انکوائری آگے بڑھانے سے روکتے ہوئے کہا گیا کہ میر اویس کے خلاف اسی واقعے اور الزامات پر شروع کی گئی بعد کی انکوائری کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے۔
میر اویس نے ایف آئی اے کی دوبارہ انکوائری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایف آئی اے ایبٹ آباد پہلے ہی معاملے کی مکمل انکوائری کرکے اسے بند کرچکی ہے، عدالت نے درخواست نمٹا دی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments