پاکستان سود اور قرضوں کے ذریعے آگے نہیں چل سکتا: گوہر اعجاز
لاہور:(دنیا نیوز) سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ پاکستان سود اور قرضوں کے ذریعے آگے نہیں چل سکتا۔
لاہور چیمبر آف کامرس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گوہر اعجاز نے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، سرکاری سکولوں میں تعلیم کا معیار بہتر کرنا ہوگا۔
اُنہوں نے کہا کہ ملک میں سکولوں کی تعداد ضرورت کے مقابلے میں کم ہے، ہر سال 60 لاکھ بچے تعلیم کے لیے سکولوں میں آ رہے ہیں، اس لیے تعلیمی نظام میں بہتری ناگزیر ہے۔
سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کہ پاکستان سود اور قرضوں کے ذریعے آگے نہیں چل سکتا، ملکی مسائل کا حل کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں ہے، ہمارے پاس آئی ایم ایف کی قسط ادا کرنے کے لیے بھی پیسے نہیں، جبکہ ملکی برآمدات بھی مجموعی طور پر گزشتہ سطح پر ہی کھڑی ہیں۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر نے اپنی برآمدات بہتر کی ہیں، تاہم دیگر شعبے خاطر خواہ پیش رفت نہیں کر سکے، ہمارا فرض ہے کہ ٹیکس دیں اور ہم ٹیکس دینے کے لیے تیار ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مختلف ممالک کی معیشت سے متعلق ماہرین موجود ہیں، تین ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 57 ملین ڈالر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں 8 فیصد دے دیا جائے تو وہ کاروبار بہتر ہونے کی ضمانت دیتے ہیں۔
سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کے ہر گھر میں 10 فیصد ایکسپرٹ بڑھانے کی بات ہونی چاہیے۔
گوہر اعجاز کا شرکاء پر زور دیا کہ وہ اس بات پر ضرور غور کریں کہ آخر ہم سب کیوں رکے ہوئے ہیں اور ملکی ترقی کی رفتار کیوں نہیں بڑھ رہی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments