بلاول بھٹو کا پی ٹی آئی کو انتہاپسندی کی سیاست ترک کرنے کا مشورہ

کراچی :(دنیا نیوز) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کو انتہاپسندی کی سیاست ترک کرنے کا مشورہ دے دیا ۔

شہرِ قائد میں بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں کے ایم سی سپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کردیا، اس موقع پر انہوں نے کراچی کے نوجوانوں کو سپورٹس کمپلیکس کے قیام پر مبارکباد دی اور کہا کہ پیپلزپارٹی نوجوانوں کے ہاتھوں میں قلم دیکھنا چاہتی ہے، ہتھیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی قوتیں کراچی کے نوجوانوں کو مجرمانہ سرگرمیوں کی طرف دھکیلنا چاہتی ہیں، جبکہ بعض سیاسی جماعتیں نفرت اور تقسیم کی سیاست کررہی ہیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی  کا کہنا تھا کہ انہوں نے آج کراچی سپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کیا ہے، جبکہ تھرپارکر میں تھر کول بلاک ٹو کے تیسرے حصے کا بھی افتتاح کیا، نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ انہیں تعلیم، کھیل اور ترقی کی جانب راغب کیا جاسکے۔

بلاول بھٹو نے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اپنی سیاسی انتہاپسندی ترک کرنی چاہیے، ان کے مطابق پی ٹی آئی کے وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں اور دیگر سیاسی جماعتوں سمیت مختلف فریقوں کے ساتھ تنازعات ہیں، جس کا نقصان ملک کو ہورہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اگر اپنا کھویا ہوا سیاسی مقام واپس حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے انتہاپسندی کی سیاست چھوڑ کر دوسری سیاسی جماعتوں سے رابطے کرنے اور پارلیمان میں واپس آنے کی ضرورت ہے، سیاسی انتہاپسندی کے باعث پی ٹی آئی کے کارکن بھی مایوسی کا شکار ہیں اور پارٹی کا وفاقی سیاست میں کردار متاثر ہوا ہے۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ اگر انتہاپسندی کی سیاست جاری رہی تو بانی پی ٹی آئی جیل میں صدر آصف علی زرداری کے 14 سالہ دورِ اسیری کا ریکارڈ توڑ سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو بھی مشورہ دیا کہ اگر وہ بانی پی ٹی آئی سے مخلص ہیں تو انتہاپسندی کی سیاست ترک کریں اور صوبے میں اپنی حکومت بچانے کے لیے مثبت سیاسی رویہ اختیار کریں۔

انہوں نے خیبرپختونخوا کی سیاسی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج ایک آئینی اور قانونی آپشن ہے، تاہم اسے آخری چارے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے، پیپلزپارٹی کا واضح مؤقف ہے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے اقدامات معمول کی سیاسی حکمت عملی نہیں بلکہ غیر معمولی حالات میں استعمال ہونے والے اختیارات ہیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نہیں چاہتی کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کا آپشن استعمال کرنا پڑے، لیکن وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے رویے کے باعث حالات اس سمت جاسکتے ہیں، بعض سیاسی قوتیں صوبے میں گورنر راج کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہورہی ہیں۔

بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ چند روز قبل وفاقی حکومت ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے تیار تھی اور اپوزیشن جماعتوں کا حکومت کے ساتھ معاہدہ بھی ہوچکا تھا،تاہم انہوں نے واضح کیا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی جیسے اقدامات آخری آپشن ہونے چاہئیں۔

انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے سوال کیا کہ مذاکرات کو ناکام کیوں بنایا گیا؟ بلاول بھٹو نے مذاکرات میں مولانا فضل الرحمان کے کردار کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ سیاسی مسائل کا حل بات چیت اور جمہوری عمل کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کراچی کی سیاسی تاریخ اور امن و امان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کا مینڈیٹ 1988 میں عوام سے چھین کر دوسروں کے حوالے کیا گیا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ماضی میں شہر میں تشدد اور خونریزی کا دور رہا، تاہم پیپلزپارٹی نے مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد کراچی کو خراب حالات سے نکالنے میں کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن قائم کرنے کے بعد خوشحالی کا سفر شروع ہوا، بلاول بھٹو نے ان سیاسی دعوؤں پر بھی تنقید کی جن میں کہا جاتا ہے کہ کراچی کا اختیار ملنے پر شہر میں دودھ اور شہد کی نہریں بہا دی جائیں گی، ماضی میں شہر کو بھائی کے مقابلے میں بھائی کھڑا کرنے کی سیاست کا سامنا کرنا پڑا۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ لاڑکانہ سے کراچی تک سندھ میں بلدیاتی نظام قائم ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ وہ بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دینے کی مخالفت کیوں کریں گے۔

نئے صوبوں کے معاملے پر بلاول بھٹو نے کہا کہ جہاں عوام صوبہ نہیں چاہتے، وہاں انہیں زبردستی قائل نہیں کیا جاسکتا، جبکہ جن علاقوں کے عوام صوبہ چاہتے ہیں، وہاں اس مطالبے پر عمل درآمد میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب اور گلگت کو صوبہ بنانے کی تجویز پر پیپلزپارٹی تعاون کرے گی، نئے صوبوں کے معاملے میں عوام کی خواہشات اور جمہوری اصولوں کو اہمیت دینی چاہیے۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ دھاندلی کے حوالے سے سب سے زیادہ شور پی ٹی آئی کرتی ہے، تاہم امکان ہے کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی شریک نہ ہو۔

بلاول بھٹو زرداری نے تحریک انصاف پر زور دیا کہ وہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے بحال کرے اور پارلیمانی عمل میں حصہ لے تاکہ انتخابی نظام سمیت قومی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کیا جاسکے۔

اُن کا خطے کی کشیدہ صورت حال اور عالمی توانائی بحران پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دنیا کو پٹرول اور ڈیزل کی صورت میں بڑے بحران کا سامنا ہے اور خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں زراعت اور خوراک کے شعبے بھی اس سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث متعدد بحری راستے بند ہیں، جس سے توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت متاثر ہونے کا خطرہ ہے، موجودہ صورت حال میں توانائی اور خوراک کی فراہمی کے ممکنہ مسائل سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات ضروری ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...