جماعت اسلامی تبدیلی چاہتی، صرف چہرے بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے: حافظ نعیم
کراچی: (دنیا نیوز) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کسی ذاتی مفاد یا اقتدار کے لیے نہیں بلکہ ایک بڑے مقصد کے لیے بنی ہے، جماعت اسلامی بذات خود مقصد نہیں بلکہ ہم پورے نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 78 برسوں سے ملک میں چہرے اور جھنڈے بدلتے رہے ہیں لیکن عوام کے مسائل جوں کے توں ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی ایک دینی اور سیاسی تحریک ہے اور جو دعوت جماعت اسلامی دیتی ہے وہ اصل دین کی نمائندہ ہے، انہوں نے پنجاب بلدیاتی ایکٹ کو غیر جمہوری اور اختیارات سلب کرنے والا قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے قوانین عوام کو مزید کمزور کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں کرپشن اور لوٹ مار مل جل کر ہوتی ہے اور ایف بی آر کو پیش کیے گئے اثاثوں اور حقیقی لائف سٹائل میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، عوام سے سالانہ 2200 ارب روپے صرف کیپیسٹی چارجز کے نام پر وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ ہر بڑی سیاسی جماعت میں آئی پی پیز مافیا موجود ہے، حافظ نعیم الرحمان نے سوال اٹھایا کہ آئی پی پیز سے کیے گئے ظالمانہ معاہدوں کا حساب کون دے گا؟
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں ناموں کے ساتھ پل اور منصوبے بنائے جاتے ہیں جیسے یہاں بادشاہی نظام رائج ہو جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پورے ملک کا نظام چند لوگوں کے ہاتھ میں ہے، ظالمانہ نظام کو بدلنے کی جدوجہد دین کا تقاضا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پیدا ہونے والا بچہ آقا اور 40 سال تک محنت کرنے والا شخص غلام بن جاتا ہے جبکہ انگریز کا بنایا ہوا بیوروکریسی کا نظام آج بھی ہم پر مسلط ہے، اچھے اور برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں مگر مخصوص مائنڈ سیٹ بنا کر لوگوں کے ذہنوں کو قابو کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بڑی سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان میں جاگیردار، وڈیرے اور سردار نمایاں نظر آتے ہیں اور صرف چہرے بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، عوام اور نوجوانوں کو منظم کر کے مثبت سرگرمیوں کی طرف لانا ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی پرامن سیاسی مزاحمت کے ذریعے آگے بڑھے گی، شارٹ کٹ سے حکومت تو حاصل کی جا سکتی ہے لیکن وہ حقیقی نہیں ہوتی جبکہ جو لوگ ہجوم کے ذریعے انقلاب لانا چاہتے ہیں وہ دراصل فساد کو جنم دیتے ہیں۔