میلسی میں تین بچوں اور خاتون کےقتل کا ڈراپ سین، سربراہ ہی قاتل نکلا: پولیس کا دعویٰ
میلسی:(دنیا نیوز) پنجاب کے علاقے میلسی میں تین بچوں اور خاتون کےقتل کی پوری تفصیل منظر عام پر آ گئی، گھر کا سربراہ ہی قاتل نکلا۔
ذرائع کے مطابق میلسی کے نواحی علاقے موضع فتح پور کی بستی بھنجر میں سعودی عرب سے واپس آنے والے محمد سجاد مبینہ طور پر گھریلو ناچاقی کے باعث اپنی 30 سالہ اہلیہ ثریا بی بی کو مبینہ طور پر پھندا لگا کر جبکہ اپنے تین بچوں 8 سالہ محمد حسن، 7 سالہ محمد دلشاد اور 3 سالہ اسد کو کلہاڑی کے وار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا، یہ افسوسناک واقعہ گھر کے ایک کمرے میں پیش آیا جہاں سے ماں اور تینوں بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او وہاڑی تصور اقبال پولیس کی بھاری نفری اور فرانزک ٹیموں کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جبکہ لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی کے بعد پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا۔
ڈی پی او وہاڑی تصور اقبال نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ گھریلو تنازع معلوم ہوتا ہے تاہم تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملزم محمد سجاد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور فرانزک رپورٹس سمیت دیگر شواہد کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب مقتولہ کے والد محمد سرور نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کا داماد محمد سجاد جو اُن کا بھتیجا بھی ہے اکثر ان کی بیٹی ثریا بی بی پر تشدد کرتا تھا اور دونوں کے درمیان اکثر جھگڑا رہتا تھا۔
مقتولہ کے والد نے مزید کہا کہ کچھ عرصہ قبل بھی تشدد کے باعث وہ اپنی بیٹی کو اپنے گھر لے آئے تھے تاہم ملزم نے آئندہ ایسا نہ کرنے کی یقین دہانی کروا کر ثریا بی بی کو دوبارہ اپنے ساتھ لے گیا تھا، اِس واقعے کے بعد علاقہ بھر کی فضاء سوگوار ہے۔