عدالت کا این سی سی آئی اے کو افسران کے سرکاری فرائض میں رکاوٹ ڈالنے سے روکنے کا حکم

اسلام آباد: (دنیا نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو درخواست گزار افسران کے سرکاری فرائض میں رکاوٹ ڈالنے سے روک دیا۔

جسٹس محمد اعظم خان نے متاثرہ افسران کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا، جس میں این سی سی آئی اے ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم امتناع برقرار رکھا گیا ہے۔

تحریری حکمنامے کے مطابق این سی سی آئی اے کے کانٹریکٹ ملازمین نے مستقلی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے، این سی سی آئی اے حکام نے جواب داخل کرانے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔

عدالت میں درخواست گزاروں کے وکلا نے مزید مہلت دینے کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ 13 فروری کو پہلی سماعت کے بعد سے جواب جمع کرانے کے متعدد مواقع دیے جا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا

وکیل نے کہا کہ فریقین کے وکلا ہر سماعت پر مختلف حیلے بہانوں سے التوا کی درخواست کرتے رہے، جس کے باعث درخواست گزاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

عدالت نے این سی سی آئی اے حکام کو 30 جولائی کو آئندہ سماعت سے قبل جواب جمع کرانے کی آخری مہلت دیتے ہوئے حکم دیا کہ درخواست گزار افسران کے قانون کے مطابق کام میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کیا گیا تو دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر کیس کا فیصلہ کر دیا جائے گا، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...