نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کا اجلاس: مقدمات کی ای فائلنگ نافذ کرنے پر غور

اسلام آباد: (دنیا نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں ملک بھر میں مقدمات کی ای فائلنگ کے نفاذ کی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔

چیئرمین نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی جسٹس محمد علی مظہر، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس محمد اعظم خان بھی اجلاس میں شریک ہوئے، کمیٹی کے دیگر اراکین نے لاہور، سندھ، پشاور اور بلوچستان ہائیکورٹس سے آن لائن شرکت کی۔

اجلاس میں یکساں ڈیجیٹل فائلنگ کے لیے مجوزہ معیاری ای فائلنگ ٹیمپلیٹس پر غور کیا گیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ای فائلنگ کا آغاز تمام صوبوں اور اسلام آباد کی منتخب عدالتوں میں خاندانی مقدمات سے آزمائشی بنیادوں پر کیا جائے گا۔

چیف جسٹس پاکستان نے "ایک مقدمہ، ایک شناخت" اقدام پر نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کو بریفنگ بھی دی۔ اقدام کے تحت ہر مقدمے کو عدالتی عمل کے آغاز سے اختتام تک منفرد شناخت دی جائے گی۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ "ایک مقدمہ، ایک شناخت" اقدام پر متعلقہ شراکت داروں سے مشاورت مکمل کر لی گئی ہے، ابتدائی مسودہ تفصیلی جائزے اور بہتری کے لیے نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کو فراہم کر دیا گیا۔

جائزے کے بعد "ایک مقدمہ، ایک شناخت" اقدام قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے سامنے حتمی غور کے لیے پیش کیا جائے گا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مجوزہ ای فائلنگ ٹیمپلیٹ پر تفصیلی غور کی قیادت کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے لیے صوبائی تفریق کے بغیر ایک جامع اور یکساں ای فائلنگ ٹیمپلیٹ تیار کیا جائے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ای فائلنگ ٹیمپلیٹ تمام صوبوں اور اسلام آباد میں یکساں طور پر قابل عمل ہونا چاہیے اور ضابطہ دیوانی کی متعلقہ دفعات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ ای فائلنگ نظام ججز، عدالتی عملے، وکلاء اور سائلین کے لیے آسان اور قابل استعمال بنایا جائے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کمیٹی اراکین کو ای فائلنگ ٹیمپلیٹ کا قانونی اور عملی پہلوؤں سے جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اراکین دو ہفتوں میں مجوزہ ای فائلنگ ٹیمپلیٹ پر تجاویز پیش کریں۔

اجلاس میں محفوظ، صارف دوست اور تمام عدالتی دائرہ ہائے اختیار میں یکساں قابل عمل ای فائلنگ فریم ورک تیار کرنے پر بھی غور کیا گیا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے عدالتی ڈیٹا کی فوری نگرانی کے لیے حال ہی میں متعارف کرائے گئے ڈیش بورڈ کا بھی جائزہ لیا۔ ہائی کورٹس کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈائریکٹوریٹس عدالتی ڈیٹا ڈیش بورڈ کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کر رہے ہیں۔

جیل خانہ جات سے عدالتی ڈیٹا ایک ماہ تاخیر سے موصول ہونے پر جسٹس محمد علی مظہر نے تشویش کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ ڈیٹا میں ایک ماہ کی تاخیر فوری نگرانی کے مقصد کو متاثر کرتی ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے سیکرٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کو جیل خانہ جات سے ڈیٹا کی تاخیر کا معاملہ ترجیحی بنیادوں پر متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی ڈیٹا ڈیش بورڈ کو تازہ رکھنے کے لیے جیل خانہ جات کی رپورٹنگ کا نظام مؤثر اور بروقت بنایا جائے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ ای فائلنگ اور "ایک مقدمہ، ایک شناخت" اقدامات کا مقصد ڈیجیٹل عدالتی عمل کو یکساں، محفوظ اور مؤثر بنانا ہے، ڈیجیٹل اصلاحات سے عدالتی ڈیٹا کی دستیابی بہتر اور عدالتی خدمات مزید قابل رسائی اور مؤثر ہوں گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...