لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب میں ایف آئی آر کا فونٹ سائز بڑا اور یکساں کرنے کا حکم
لاہور (محمد اشفاق) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے آئی جی پنجاب کو صوبے بھر میں ایف آئی آر کے فونٹ سائز کو بڑھانے اور ایک ہی طرز کا فونٹ استعمال کرنے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے قرار دیا کہ ہم ایف آئی آر پڑھیں گے یا اسے سمجھیں گے؟ جب تین صفحات کا کام ایک صفحے پر ہوگا تو فونٹ تو چھوٹا ہوگا۔ کہتے ہیں ہم پیپر بچا رہے ہیں، پیپر بچاتے بچاتے ہماری آنکھیں ضائع ہوگئی ہیں۔ آئی جی پنجاب نے بھی ایف آئی آر کا فونٹ سائز چھوٹا ہونے کا اعتراف کرلیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے شہری جمیل کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی جی صاحب، آپ نے ایف آئی آر دیکھی ہے؟ یہ ایف آئی آر تو عینک لگا کر بھی نہیں پڑھی جا رہی، کم از کم ایک ہی فونٹ رکھیں۔
آئی جی پنجاب نے بیان دیا کہ ہم نے اس حوالے سے پی آئی ٹی بی سے معاونت حاصل کی ہے۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ ہم ایف آئی آر پڑھیں گے یا اسے سمجھیں گے؟ جب تین صفحات کا کام ایک صفحے پر ہوگا تو فونٹ تو چھوٹا ہوگا، کہتے ہیں ہم پیپر بچا رہے ہیں، پیپر بچاتے بچاتے ہماری آنکھیں ضائع ہوگئی ہیں۔
عدالت نے آئی جی پنجاب کو پورے پنجاب میں ایک طرز کے فونٹ میں ایف آئی آر کے اندراج کی ہدایت کردی اور آئی جی پنجاب سے 29 ستمبر کو عمل درآمد رپورٹ طلب کرلی۔
عدالت نے گزشتہ سماعت پر ایس پی کی جانب سے ایف آئی آر نہ پڑھے جانے پر آئی جی پنجاب کو طلب کیا تھا۔عدالتی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم کا کہنا تھا کہ سب کو صاف طور پر یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ قانون کی خلاف ورزی پر آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ 23 ستمبر کو کسی کو توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دیں گے۔ اگر کسی نے احتجاج کرنا ہے تو متعلقہ ڈی سی سے اجازت لی جائے، میرے علم میں نہیں ہے کہ کسی نے احتجاج کے لیے درخواست دی ہو۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ کسی کے خلاف امتیازی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ پولیس کی خود احتسابی کا بڑا اچھا نظام ہے۔ گھروں میں توڑ پھوڑ کا الزام درست نہیں ہے۔ کسی کو اگر گھروں میں توڑ پھوڑ کی شکایت ہے تو ہمارے شکایت سیل سے رجوع کرے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments