نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- بھارت کےپاس 2 ہی خبریں ہیں،شیخ رشید اورطالبان،وزیرداخلہ
  • بریکنگ :- چہلم شہدائےکربلاکےدوران موبائل فون سروس بندرہےگی،شیخ رشید
  • بریکنگ :- چہلم شہدائے کربلا پرفوج ،رینجرزتعینات ہوگی،شیخ رشید
  • بریکنگ :- اپوزیشن نیوزی لینڈ ٹیم کامعاملہ ہم پرڈال رہی ہے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- اپوزیشن شیشے کےگھرمیں بیٹھ کرحکومت پرپتھرنہ مارے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- پتانہیں آخری وقت نیوزی لینڈ نےکیافیصلہ کیا،شیخ رشید
  • بریکنگ :- ایک دن آئے گایہ سب یہاں کھیلنے آئیں گے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- ایک ماہ سےبھارت میں منفی پرو پیگنڈا چل رہاہے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- اتنی نیوزی لینڈ میں فورسزنہیں ہوں گی جتنی یہاں سکیورٹی دی گئی ،شیخ رشید
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈ کی ٹیم کوسکیورٹی دینا ہمارافرض تھا،شیخ رشید
  • بریکنگ :- روس میں آج ایک شخص نے8 افراد کوقتل کردیا،شیخ رشید
Coronavirus Updates

بابری مسجد کے انہدام پر نادم ہوکر مسلمان ہونیوالا شخص پراسرار طور پر جاں بحق

دنیا

نئی دہلی: (دنیا مانیٹرنگ) سابق ہندو انتہا پسند اور سنگ پریوار کے رہنما محمد عامر حیدر آباد شہر کی ایک مسجد میں پراسرار طور پر انتقال کر گئے۔ محمد عامر جن کا اسلام قبول کرنے سے قبل نام دلبیر سنگھ تھا۔

مرحوم 1992ء میں بابری مسجد کے انہدام میں شریک ہوئے۔ پولیس کے مطابق محمد عامر کی رہائشگاہ سے بدبو کی اطلاع پر جب انہوں نے کارروائی کی تو گھر سے ان کی لاش ملی، جسے پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ ملنے کے بعد مزید کارروائی کی جائیگی۔

بھارتی روزنامے سیاست کی رپورٹ کے مطابق بابری مسجد گرانے کے بعد آبائی شہر پہنچنے پر محمد عامر کا استقبال ایک ہیرو کی طرح کیا گیا تھا، مگر اس حرکت پر اپنے سیکولر گھرانے کی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس پر انہیں سخت ندامت محسوس ہوئی۔ بعد ازاں وہ بیمار ہو گئے۔

مختلف جسمانی عوارض کے باعث وہ مظفر نگر کے مولانا کلیم صدیقی کے پاس گئے اور بابری مسجد کے انہدام میں شرکت پر ندامت کا اظہار کیا۔

مولانا صدیقی نے قرآنی آیات کے حوالے سے اسلامی اقدار کی جب وضاحت کی تو محمد عامر کو احساس ہوا کہ اس سے ایک سنگین گناہ سرزد ہوا ہے۔

اس کے بعد انہوں نے یکم جون 1993ء کو انہوں نے اسلام قبول کرتے ہوئے مساجد کے تحفظ اور 100 مساجد کی تعمیر اور تزئین وآرائش کا عزم کیا۔

اس دوران 26 سال میں 91 مساجد تعمیر کیں، جن میں 59 زیر تعمیر ہیں۔ انہوں نے پہلی مسجد مدینہ 1994ء میں ہریانہ میں بنائی۔

پولیس کے مطابق محمد عامر حافظ بابا نگر میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھے، جہاں وہ مسجد رحیمیہ کے نام سے 59 مسجد کا کام مکمل کرا رہے تھے۔
 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں