سانحہ فوکوشیما: جاپان نے 15 سال بعد دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی پلانٹ دوبارہ فعال کردیا

ٹوکیو: (ویب ڈیسک) جاپان نے فوکوشیما ایٹمی حادثے کے تقریباً 15 برس بعد دنیا کے سب سے بڑے ایٹمی بجلی گھر کاشیوازاکی-کاریوا نیوکلیئر پاور پلانٹ کو دوبارہ فعال کر دیا ہے۔

جاپانی کمپنی ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی (ٹیپکو) کے مطابق پلانٹ کے ایک ری ایکٹر نے بدھ کی شام باقاعدہ طور پر کام شروع کر دیا۔

ٹیپکو کے ترجمان نے بتایا کہ نیگاتا صوبے میں واقع پلانٹ کا یونٹ نمبر 6 شام 7 بج کر 2 منٹ پر شروع کیا گیا۔ اگرچہ صوبائی گورنر نے گزشتہ ماہ پلانٹ کی بحالی کی منظوری دے دی تھی، تاہم مقامی آبادی میں اس فیصلے پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کے روز درجنوں افراد نے شدید سردی اور برفباری کے باوجود پلانٹ کے باہر احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ٹوکیو کے لیے بجلی پیدا کرنے کے لیے مقامی آبادی کو خطرے میں ڈالنا ناانصافی ہے۔

ستمبر میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق 60 فیصد مقامی باشندے پلانٹ کی بحالی کے مخالف ہیں جبکہ 37 فیصد اس کے حق میں ہیں۔ ٹیپکو کا کہنا ہے کہ پلانٹ میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جن میں 15 میٹر اونچی سونامی دیوار، جدید ایمرجنسی پاور سسٹمز اور اضافی حفاظتی اپ گریڈز شامل ہیں۔

کاشیوازاکی-کاریوا دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی بجلی گھر ہے، تاہم اس وقت سات میں سے صرف ایک ری ایکٹر فعال کیا گیا ہے۔ یہ پلانٹ 2011 میں آنے والے زلزلے اور سونامی کے بعد بند کر دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں فوکوشیما نیوکلیئر پلانٹ میں شدید حادثہ پیش آیا تھا۔

جاپان اب ایٹمی توانائی کی بحالی کے ذریعے فوسل فیول پر انحصار کم کرنے، کاربن نیوٹرل اہداف حاصل کرنے اور توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کا خواہاں ہے۔ وزیرِاعظم سَنے تاکائچی نے بھی ایٹمی توانائی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

تاہم مقامی افراد اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پلانٹ ایک فعال زلزلہ فالٹ لائن کے قریب واقع ہے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں انخلا کے منصوبے ناکافی ہیں، جنوری کے آغاز میں تقریباً 40 ہزار افراد کے دستخطوں پر مشتمل درخواست بھی حکام کو جمع کروائی گئی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں