ٹرمپ نے اسرائیل کو ایران کے پارس گیس فیلڈ پر حملوں سے روک دیا
واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل کو ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر مزید حملوں سے روک دیا گیا ہے، تاہم اگر ایران نے خلیجی ممالک پر حملے جاری رکھے تو امریکہ خود کارروائی کرے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو ایران کے ساؤتھ پارس قدرتی گیس فیلڈ پر دوبارہ حملہ نہیں کرنے دیں گے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا جاری رکھا تو امریکا خود اس گیس فیلڈ کو تباہ کر سکتا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے خلیج کے مختلف ممالک میں گیس اور تیل کی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں قطر کے ایک بڑے گیس مرکز کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کی آئل و گیس تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے اسرائیل کے اس حملے کے جواب میں کی گئیں، جس میں ایران کے اہم ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ جنگ 28 فروری سے جاری ہے اور اس دوران خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ اسرائیل نے ساؤتھ پارس پر حملہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر غصے کے باعث کیا، تاہم ان کے مطابق اس حملے میں گیس فیلڈ کا صرف ایک چھوٹا حصہ متاثر ہوا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو اس حملے کا پیشگی علم نہیں تھا، تاہم امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق اس کارروائی میں دونوں ممالک کے درمیان رابطہ موجود تھا۔