امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے سفارتی کوششیں مزید تیز
واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لئے سفارتی کوششوں میں پیش رفت کے آثار سامنے آئے ہیں، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
امریکی صحافی اور سلامتی و خارجہ امور کے تجزیہ کار الیکس مارکیورڈ نے عالمی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایک بار پھر دھمکیوں اور سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے، پاکستان اور خلیجی ممالک کی شمولیت سے سفارتی رابطے بھی دوبارہ متحرک ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب جیسے ممالک نے واشنگٹن کو مزید فوجی کشیدگی کے خطرناک کنارے سے پیچھے ہٹانے میں اہم کردار ادا کیا، اب واضح ہوتا جا رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس بحران سے نکلنے کا راستہ چاہتے ہیں اور وہ اسے سفارتی طریقے سے ختم کرنے کے خواہاں ہیں۔
الیکس مارکیورڈ نے مزید کہا کہ اگرچہ امریکا اب بھی فوجی کارروائی کے امکان کا اشارہ دے رہا ہے، یہاں تک کہ آپریشن سلیج ہیمر جیسے نام بھی زیرِ غور آئے ہیں، پیش رفت کا مرکز آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر ہو سکتا ہے کیونکہ عالمی تجارتی راستوں کی بحالی کے لئے یہ سب سے بڑا اور فوری ترجیحی مسئلہ ہے، مذاکرات مرحلہ وار آگے بڑھ سکتے ہیں۔
سلامتی و خارجہ امور کے تجزیہ کار نے کہا کہ جہاں ابتدائی طور پر پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے اقتصادی اقدامات پر توجہ دی جائے گی جبکہ ایران کے جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ معاملات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔