طالبان رجیم میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، دنیا کا فوری ردعمل ضروری

کابل: (دنیا نیوز) عالمی جریدہ نے طالبان رجیم کے دور میں افغانستان میں ایک پرندہ کوعورت سے زیادہ محفوظ قرار دے دیا۔

عالمی جریدہ دی گارڈین کے مطابق طالبان رجیم میں پانچ سال سے افغانستان میں ساتویں جماعت کی لڑکیوں کیلئے سکول ہی نہیں بنے، طالبان کی جانب سے پابندیوں اور نئے قوانین نے افغان خواتین کی زندگی کو زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔

دی گارڈین کے مطابق افغانستان میں نکاح سے متعلق نئے قانون میں کم عمر لڑکیوں کی شادی کو قانونی بنا دیا گیا ہے، بین الاقوامی قانون کے تحت خواتین کیساتھ ظلم کو جرم قرار دینے کے بعد بھی طالبان رجیم اسی طریقہ پر عمل کر رہی ہے، افغان طالبان کا عدالتوں کا نیا نظام بھی خواتین کی آزادی کیلئے ایک اور بڑا نقصان ہے۔

افغانستان کے وزیر تعلیم نے 2024 میں صحافیوں کو بتایا کہ افغانستان میں خواتین کی تعلیم ابھی ممکن نہیں اور سکولوں کے بارے میں سوال کرنا بھی منع ہے۔

عالمی ماہرین کے مطابق افغان طالبان کے دور میں افغانستان خواتین کیلئےغیر محفوظ ہو چکا ہے، جہاں تعلیم حاصل کرنے کا بنیادی حق بھی نہیں، طالبان نے خواتین پر مظالم کو قانونی شکل دے دی ہے اور عالمی وعدے پورے ہونے تک افغان طالبان رجیم کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں