سینٹ پیٹرزبرگ فورم کا دوسرا روز: اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور عالمی شراکت داری پر زور
سینٹ پیٹرزبرگ: ( شاہد گھمن) سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم کے دوسرے روز عالمی معیشت، سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت اور بین الاقوامی تجارتی تعاون سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوئے جن میں دنیا بھر سے آئے ہوئے حکومتی نمائندوں، سرمایہ کاروں اور کاروباری رہنماؤں نے شرکت کی۔
فورم میں مختلف سیشنز کے دوران عالمی اقتصادی چیلنجز، نئی منڈیوں تک رسائی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے بدلتے ہوئے عالمی معاشی حالات میں باہمی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسرے روز کے اجلاسوں میں برکس ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، ڈیجیٹل معیشت، توانائی، لاجسٹکس اور صنعتی ترقی جیسے موضوعات خصوصی توجہ کا مرکز رہے۔ مختلف ممالک کے وفود نے دوطرفہ ملاقاتوں میں تجارتی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر بات چیت بھی کی۔
فورم کے دوران مہمانِ خصوصی ملک سعودی عرب کا جدید اور خوبصورت پویلین بھی شرکاء کی توجہ کا مرکز بنا رہا جہاں وژن 2030، سرمایہ کاری کے مواقع، توانائی اور سیاحت کے منصوبوں کو اجاگر کیا گیا۔
اس موقع پر چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی آن واٹر ریسورسز رانا عتیق انور نے نمائندہ دنیا نیوز شاہد گھمن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم ایک بڑا عالمی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا کے بڑے کاروباری ادارے اور سرمایہ کار شریک ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے بھی یہاں وسیع مواقع موجود ہیں اور کوشش کی جائے گی کہ آئندہ سال زیادہ سے زیادہ پاکستانی کمپنیاں اس فورم کا حصہ بنیں، ایسے بین الاقوامی فورمز ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولتے ہیں۔
فورم کے شرکاء نے دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی اقتصادی حالات میں مختلف ممالک کے درمیان تعاون، سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم مختلف خطوں کے درمیان اقتصادی شراکت داری کے نئے مواقع پیدا کرنے اور مشترکہ چیلنجز کے حل تلاش کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو رہا ہے۔