پیوٹن کی امریکی وفد سے ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں، کریملن
سینٹ پیٹرزبرگ: ( شاہد گھمن) روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں جاری 29ویں بین الاقوامی اقتصادی فورم (SPIEF 2026) کے دوران کریملن نے واضح کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی امریکی وفد سے کسی قسم کی ملاقات یا رابطے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔
روسی صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی وفد کی موجودگی کے باوجود صدر پیوٹن یا کریملن کی سطح پر ان سے کوئی باضابطہ ملاقات طے نہیں، ان کے مطابق یہ معاملہ "کریملن کے پروفائل" میں شامل نہیں ہے۔
واضح رہے کہ اس سال کئی برسوں بعد امریکہ کا سرکاری وفد سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم میں شریک ہوا ہے۔ امریکی وفد کی قیادت رونڈنی میمز کک کر رہے ہیں، جو امریکی کمیشن آف فائن آرٹس کے چیئرمین ہیں۔ توقع ہے کہ وہ فورم کے دوران "روس۔امریکہ: ثقافتی مکالمہ" کے عنوان سے ہونے والے اجلاس میں خطاب کریں گے۔
کریملن کے مطابق اگرچہ امریکی وفد کی شرکت ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، تاہم اس مرحلے پر سیاسی سطح پر اعلیٰ قیادت کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی شیڈول موجود نہیں۔
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم میں دنیا کے 200 سے زائد ممالک اور خطوں کے وفود شریک ہیں، جہاں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں پر بات چیت جاری ہے۔
فورم میں روسی اور بین الاقوامی کمپنیوں نے اپنے اپنے پویلینز بھی قائم کر رکھے ہیں، جہاں مختلف صنعتی اور اقتصادی منصوبے پیش کیے جا رہے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق امریکی وفد کی شرکت کے باوجود سیاسی سطح پر براہِ راست روابط کی عدم موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات ابھی بھی محدود دائرے میں ہیں، تاہم اقتصادی فورمز پر غیر رسمی رابطوں کے امکانات برقرار ہیں۔