اسلام آباد ہائیکورٹ نے بچوں کے تحفظ بارے اقدامات کی رپورٹ طلب کر لی

اسلام آباد: (دنیا نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بچوں کے تحفظ کے لیے قائم اتھارٹی کی ورکنگ سے متعلق وزارت انسانی حقوق سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت انسانی حقوق اور اسلام آباد پولیس سے عدالتی سوالوں پر تفصیلی جواب طلب کر لیا اور وزارتِ انسانی حقوق کے نامزد افسر کو عدالت کی معاونت کے لیے یکم جولائی کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ڈائریکٹر جنرل زارا اتھارٹی بھی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہوں، جسٹس ارباب محمد طاہر نے شہری سنیلہ خرم کی مفاد عامہ کے تحت دائر درخواست پر سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ اسلام آباد انتظامیہ نے 2022 سے 2025 کے دوران بچوں سے بدسلوکی اور لاپتہ ہونے کے واقعات پر رپورٹ جمع کرائی، رپورٹ کے مطابق تین برس کے دوران بچوں سے بدسلوکی اور لاپتہ ہونے کے 562 کریمنل کیسز درج کیے گئے۔

زینب الرٹ ریسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ 2020 کے نفاذ کے بعد متعدد اقدامات کیے گئے، وزارت انسانی حقوق کی رپورٹ جمع کرا دی گئی۔

عدالت کے مطابق زارا ایکٹ بچوں کے حقوق کے تحفظ، تشدد، بدسلوکی، اغوا اور استحصال سے بچاؤ کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا، یہ ایکٹ بچوں کے حقوق سے متعلق اقوامِ متحدہ کے کنونشن اور دیگر بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق زارا ایکٹ کی دفعہ 3 کے تحت زینب الرٹ ریسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی کے قیام کا تصور دیا گیا، اس ایجنسی کے اختیارات اور فرائض زارا ایکٹ کی دفعہ 5 میں بیان کیے گئے ہیں۔

عدالت نے زارا ایجنسی کے قیام، اس کے تنظیمی ڈھانچے، منظور شدہ آسامیوں، تقرریوں اور کارکردگی کی تفصیلات طلب کر لیں، زینب الرٹ جاری کرنے کے لیے کون سا ادارہ جاتی نظام وضع کیا گیا اور کیا ایس او پیز بنائے گئے؟۔

حکم نامے کے مطابق لاپتا یا اغوا شدہ بچوں کی معلومات وصول، ریکارڈ اور زارا ڈیٹا بیس پر اپ لوڈ کرنے کے لیے کیا نظام تشکیل دیا گیا؟ رپورٹ میں یہ بھی بتائیں کہ کیا یہ ڈیٹا بیس اسلام آباد پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں سے منسلک ہے یا نہیں؟۔

عدالت نے استفسار کیا کہ زارا ایکٹ پر ملک گیر سطح پر عملدرآمد اور نگرانی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ کیا متعلقہ ادارے اور قانون نافذ کرنے والے محکمے ایکٹ کے مطابق بروقت معلومات فراہم کرتے ہیں؟۔

حکم نامے کے مطابق زارا ایکٹ کی دفعہ 9 کے تحت غفلت برتنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف کتنے مقدمات درج کیے گئے؟ متاثرہ بچوں اور ان کے سرپرستوں کو قانونی امداد فراہم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اسلام آباد چائلڈ پروٹیکشن ایڈوائزری بورڈ تشکیل دیا گیا ہے؟ عدالت نے ایڈوائزری بورڈ کے اجلاسوں میں پیش کی گئی سفارشات اور تجاویز سمیت بااختیار کیے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب کر لیں۔

زارا اور اسلام آباد پولیس کے درمیان رابطہ، معلومات کے تبادلے اور قانون پر عملدرآمد کے لیے کیا ادارہ جاتی انتظام ہے؟ لاپتا یا اغوا شدہ بچے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر معلومات کی ترسیل اور الرٹ جاری کرنے کا کیا طریقہ کار ہے؟۔

عدالت نے استفسار کیا کہ قواعد مرتب کیے جا چکے ہیں تو اس کی کاپی جمع کرائیں ورنہ تاخیر کی وجوہات کے ساتھ قواعد کے اجرا کی تاریخ سے آگاہ کریں، زارا ایکٹ کے تحت درج اور نمٹائے گئے مقدمات اور ٹرائل مکمل ہونے کی مدت سے متعلق تفصیل جمع کرائیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت سے قبل تمام سوالات کے جواب متعلقہ دستاویزات کے ساتھ تفصیلی رپورٹ کی صورت میں جمع کرائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں