سینٹ پیٹرزبرگ اکنامک فورم اختتام پذیر، 80 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے معاہدے طے

سینٹ پیٹرزبرگ: (شاہد گھمن) چار روز تک جاری رہنے والا سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم (SPIEF-2026) کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا، فورم کے دوران ایک ہزار سے زائد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے جن کی مجموعی مالیت تقریباً 6 کھرب 30 ارب روبل، یعنی 80 ارب امریکی ڈالر سے زائد رہی۔

فورم میں دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان، وزراء، سفارت کاروں، سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور بین الاقوامی کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی، چار روزہ اجلاسوں، مذاکروں اور کاروباری ملاقاتوں میں عالمی معیشت، سرمایہ کاری، توانائی، تجارت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، نقل و حمل اور بین الاقوامی تعاون کے موضوعات زیر بحث رہے۔

فورم کا مرکزی موضوع "عملی مکالمہ، مستحکم مستقبل کی جانب راستہ" تھا، جس کے تحت عالمی اقتصادی نظام میں جاری تبدیلیوں اور نئی شراکت داریوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ روسی حکام کے مطابق اس سال فورم میں ایشیا، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک کی بھرپور شرکت نے اسے حقیقی معنوں میں ایک عالمی اقتصادی پلیٹ فارم بنا دیا۔

فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے روسی صدر پوتن نے خطاب کرتے ہوئے عالمی معیشت، مغربی پابندیوں، توانائی کی منڈیوں، برکس ممالک کے کردار اور روسی اقتصادی ترقی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا، ان کے علاوہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف، تنزانیہ کی صدر سامعہ سولوحو حسن، چین کے نائب صدر ہان ژینگ اور سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

اس سال سعودی عرب فورم کا خصوصی مہمان ملک تھا۔ سعودی پویلین فورم کی نمایاں ترین سرگرمیوں میں شامل رہا جہاں توانائی، سرمایہ کاری، سیاحت، صنعت اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق منصوبوں اور مواقع کو پیش کیا گیا۔ سعودی وفد نے متعدد کاروباری اور اقتصادی ملاقاتوں میں بھی حصہ لیا۔

میزبان شہر سینٹ پیٹرزبرگ نے بھی فورم کے دوران نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے گورنر الیگزینڈر بیگلوف کے مطابق شہر نے مجموعی طور پر 74 معاہدوں پر دستخط کیے جن میں 41 سرمایہ کاری معاہدے شامل ہیں، ان معاہدوں کی مجموعی مالیت 731 ارب 72 کروڑ روبل، یعنی تقریباً 10 ارب امریکی ڈالر رہی، جو فورم کی تاریخ کے تیسرے بڑے سرمایہ کاری نتائج میں شمار ہوتی ہے۔

فورم کے دوران توانائی، بنیادی ڈھانچے، صنعتی ترقی، شہری منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تجارت سے متعلق متعدد منصوبوں پر اتفاق کیا گیا، روسی حکام کا کہنا ہے کہ ان معاہدوں سے نہ صرف روسی معیشت میں نئی سرمایہ کاری آئے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی اقتصادی حالات میں مختلف ممالک کے درمیان تعاون، سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کو فروغ دینا انتہائی ضروری ہے، ان کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم مختلف خطوں کے درمیان اقتصادی شراکت داری کے فروغ اور مشترکہ چیلنجز کے حل کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو رہا ہے۔

فورم کے اختتام پر روسی حکام نے اسے کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی اقتصادی تبدیلیوں کے باوجود بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ نئے اقتصادی مراکز تیزی سے ابھر رہے ہیں اور عالمی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں