عبوری معاہدہ پہلا قدم ہے، اگر یہ نافذ نہ ہوا تو جوہری مذاکرات نہیں ہوں گے: عباس عراقچی
تہران: (دنیا نیوز) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ عبوری معاہدہ پہلا قدم ہے، اگر عبوری معاہدہ نافذ نہ ہوا تو جوہری مذاکرات نہیں ہوں گے۔
ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران امریکہ کے خلاف جنگ کا فاتح ہے، ایران امریکہ جنگ کے بعد مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے، مفاہمتی یادداشت پر ابھی دستخط نہیں ہوئے، تبدیلی ممکن ہے، جوہری معاملات بعد کے مراحل میں زیر بحث آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کا اعلان تمام محاذوں پر بشمول لبنان عبوری معاہدے کے تحت ہوگا، لبنان میں جنگ کے خاتمے کا مطلب اسرائیل کا قبضہ شدہ علاقوں سے انخلا ہے، اسرائیل جیسے دشمن ایران امریکہ معاہدے کے خلاف ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کی ناکہ بندی ختم اور آبنائے ہرمز کھولنا عبوری معاہدے کا حصہ ہے، امریکہ کی دھمکیاں بند ہونی چاہئیں، ایران دباؤ میں نہیں آئے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی مینجمنٹ جنگ سے پہلے کے دور میں واپس نہیں جائے گی، ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ گزر گاہ یقینی بنائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کیلئے یورینیم ذخائر کا واحد حل مواد کو کم سطح پر لانا ہے، ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی۔
قبل ازیں سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت حتمی منظوری کے انتہائی قریب ہے، میڈیا کو مذاکرات سے متعلق قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہیے، شفافیت اور ذمہ دارانہ طرز عمل کے تحت تفصیلات مناسب وقت پر عوام کے سامنے پیش کر دی جائیں گی۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر کا کہنا ہے کہ ملاقات یا معاہدے پر دستخط کرنے پر منجمد ایرانی فنڈ بحال نہیں ہوں گے، مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو ذمہ داریاں پوری کرنے پر معاشی فوائد حاصل ہوں گے، مجوزہ معاہدے بارے بہت سی جعلی معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔