ووٹرز لسٹوں سے مسلمانوں کے نام حذف: یواین نمائندوں کی بھارتی حکومت سے وضاحت طلب

نیو یارک:(دنیا نیوز) اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے بھارتی حکومت کے نام ایک کھلا خط جاری کرتے ہوئے انتخابی فہرستوں سے لاکھوں ووٹروں، خصوصاً مسلمانوں اور بنگالی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے نام مبینہ طور پر حذف کیے جانے کے الزامات پر وضاحت طلب کر لی ہے۔

خط میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مذہب اور نسلی بنیاد پر مبینہ طور پر حذف کیے گئے ووٹروں کا تفصیلی ڈیٹا فراہم کرے اور انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل سے متعلق جامع جواب جمع کرائے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کا کہنا تھا کہ انہیں ایسی شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مغربی بنگال میں تقریباً 91 لاکھ نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے جب کہ مجموعی طور پر تقریباً 5 کروڑ 20 لاکھ ووٹروں کے نام خارج کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض علاقوں، خصوصاً نندی گرام، میں حذف کیے گئے ووٹروں کی بڑی تعداد مسلمانوں پر مشتمل تھی اور مسلم و بنگالی برادری کو خاص طور پر نشانہ بنائے جانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

خصوصی نمائندوں کا کہنا تھا کہ مغربی بنگال کے انتخابات سے قبل تقریباً 34 لاکھ اپیلوں پر فیصلہ نہیں ہو سکا جب کہ یہ الزامات بھی سامنے آئے ہیں کہ انتخابی عمل کو متاثر کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کیا گیا۔

خط میں بھارتی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل میں شفافیت، غیر جانبداری اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کی مکمل پاسداری یقینی بنائے۔

اقوام متحدہ کا یہ بھی استفسار کرتے ہوئے  کہنا تھا کہ اقلیتوں کو انتخابی عمل میں امتیازی سلوک سے بچانے اور ان کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔

خصوصی نمائندوں نے کہا کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تصور کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ ووٹروں کو مؤثر قانونی چارہ جوئی، حقِ رائے دہی کے تحفظ اور انتخابی عمل میں مساوی شرکت کی ضمانت فراہم کی جائے جب کہ اس معاملے پر حکومت اپنا جواب عوامی سطح پر بھی جاری کرے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کا خط الزامات اور موصولہ شکایات کی بنیاد پر وضاحت طلب کرنے کے لیے جاری کیا گیا ہے اور ان دعوؤں پر بھارتی حکومت کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...