ایران جنگ کے مستقبل پر امریکی کابینہ اور مسلح افواج کے درمیان اختلافات
لندن: (ویب ڈیسک) ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں، تاہم امریکی میڈیا میں اس معاہدے کے ممکنہ اثرات پر بحث جاری ہے، جنگ کے مستقبل سے متعلق اختلافات امریکی کابینہ اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف تک پہنچ گئے ہیں۔
امریکی نیوز چینل سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا کے اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار جنگ سے نکلنے اور امریکی فوجیوں کو محفوظ رکھنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں، جبکہ کانگریس میں ایران کے خاتمے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید سخت اقدامات، جن میں ایرانی مظاہرین کو ہتھیار فراہم کرنا بھی شامل ہے، کے حامیوں کی آوازیں زور پکڑ رہی ہیں۔
دوسری جانب ایران میں جنوری میں ہونے والے خونریز مظاہروں کو چھ ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد نیویارک ٹائمز نے ایک تفصیلی رپورٹ میں ان ایرانیوں کی مایوسی کا ذکر کیا ہے جنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی مدد کی یقین دہانی پر بھروسا کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق مظاہرین بدستور بحران کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اب جنگ ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سی این این نے معاملے سے واقف تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین نے حالیہ ہفتوں کے دوران صدر کے دیگر اعلیٰ مشیروں کے ساتھ گفتگو میں ایران کے ساتھ جنگ کو مزید بڑھانے کے ممکنہ نتائج پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا جانا چاہئے۔
ان ذرائع میں سے ایک نے سی این این کو بتایا کہ جنرل ڈین کین جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں، جنرل ڈین کین اس معاملے میں اکیلے نہیں ہیں، ان کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے امریکا ایک اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے جنگ کو مزید بڑھانے کے لیے فوجی آپشنز سے متعلق اپنے خدشات کابینہ کے دیگر اہم ارکان، جن میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس شامل ہیں، کے ساتھ بھی شیئر کیے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی جنرل کین نے ٹرمپ کے دیگر اہم مشیروں اور ساتھیوں کے ساتھ الگ الگ بات چیت بھی کی ہے تاکہ مختلف حکومتی اداروں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی یقینی بنائی جا سکے اور صدر سے ملاقات سے قبل تمام حکام ایک ہی مؤقف پر ہوں۔
رپورٹ کے مطابق ان بات چیت کا مقصد دستیاب فوجی آپشنز کی حدود اور ان سے وابستہ خطرات کو واضح کرنا تھا، جن میں ایسے آپشنز بھی شامل ہیں جن کے لیے امریکی زمینی فوج کی تعیناتی ضروری نہیں ہوگی۔
ایران کے ساتھ جنگ کو پانچ ماہ گزر چکے ہیں اور وسط مدتی انتخابات میں 90 دن سے بھی کم وقت باقی ہے، ایسے میں اس جنگ میں کسی بھی قسم کی کامیابی، چاہے وہ صرف علامتی ہی کیوں نہ ہو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے ساتھ بحری جہازوں سے گزرنے کی فیس وصول کرنے اور امریکی جنگی بحری جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے سے روکنے کی شرط عائد کرتا ہے تو ٹرمپ کی اس ممکنہ فتح کا علامتی پہلو بھی باقی نہیں رہے گا۔
امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ ایران نے امریکا کو خلیج فارس سے نکالنے کے لیے موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے اور عمان کے ساتھ معاہدے کے لیے اپنی شرائط میں امریکی بحری جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے پر پابندی کی شرط بھی شامل کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا، جو ان مذاکرات میں شریک نہیں ہے، بارہا واضح کر چکا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر پابندیاں عائد کرنے یا اس پر محصول وصول کرنے کو قبول نہیں کرے گا۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق یہ معاملہ، دیگر کئی اہم اختلافات کے ساتھ، عمان اور ایران کے درمیان معاہدے کو حتمی شکل دینے میں تاخیر کا سبب بن رہا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments