ایران کے سخت گیر دھڑے نے امریکا کیساتھ جون میں طے پانے والا امن معاہدہ سبوتاژ کیا، امریکی اخبار

واشنگٹن: (دنیا نیوز) ایک امریکی اخبار کے مطابق ایران میں سخت گیر دھڑے نے سیاسی اور عسکری قیادت کی اجازت کے بغیر جولائی میں آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان جون میں طے پانے والا امن معاہدہ سبوتاژ ہو گیا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ حملے 6 اور 7 جولائی کی درمیانی شب کیے گئے جن میں قطر کے ایل این جی ٹینکر سمیت 3 تجارتی جہازوں کو نقصان پہنچا، ان حملوں کے نتیجے میں امریکا نے ایران کے خلاف دوبارہ فضائی حملے کیے اور پابندیاں عائد کر دیں جس کے بعد جوابی کارروائیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔

اخبار کے مطابق آبنائے ہرمز میں ہونے والے اس حملے نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو شدید برہم کر دیا وہ اُس وقت ایران کے شہید سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے جنازے کے سلسلے میں عراق میں موجود تھے۔

ذرائع نے امریکی اخبار کو بتایا کہ صدر پزشکیان فوراً تہران واپس پہنچے اور غصے میں پاسداران انقلاب کے سربراہ احمد وحیدی کو فون کر کے جواب طلب کیا تاہم احمد وحیدی نے اس حملے کی اجازت دینے یا اس کے بارے میں پیشگی علم ہونے سے صاف انکار کر دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...