ایران میں وینز ویلا جیسا ایکشن ،ٹرمپ کی دھمکی

ایران میں وینز ویلا جیسا ایکشن ،ٹرمپ کی دھمکی

وقت تیزی سے ختم ہور ہا ، ایران ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کا معاہدہ کر لے :صدر ٹرمپ ،خطے میں امریکی جنگی بحری جہازوں کی تعداد 10،وینزویلا کیلئے بھی اتنے ہی بھیجے گئے ایسا جواب دینگے جو پہلے کبھی نہیں دیا :ایران ، کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی خطے کو غیر یقینی کی کھائی میں دھکیل دیگی :چین ، ایرانی حکومت کے دن گنے جا چکے : جرمنی

واشنگٹن (اے ایف پی، مانیٹرنگ نیوز )صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا:"ایک زبردست بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے ۔"انہوں نے مزید کہا: "جیسا کہ وینزویلا کے معاملے میں ہوا، یہ تیار اور قابل ہے کہ ضرورت پڑنے پر تیزی اور طاقت کے ساتھ اپنا مشن پورا کرے ۔"انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا: "وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے "، اور تہران سے مطالبہ کیا: "معاہدہ کر لو!"صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ‘امید ہے ایران جلد مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ایک منصفانہ معاہدہ کرے گا جس میں ایٹمی ہتھیار شامل نہ ہوں۔ ان کے بقول وقت کم ہے اور فیصلہ فوری طور پر کرنا ہوگا۔

مشرقِ وسطیٰ میں ایک امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے کی حالیہ آمد کے بعد خطے میں  امریکی جنگی بحری جہازوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے ، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران کے خلاف حملے کی صورت میں نمایاں فوجی طاقت موجود ہے ۔مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی بحری جہازوں کی تعداد تقریباً اتنی ہی ہے جتنی اس سال کے آغاز میں وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے لیے کیریبین بھیجے گئے تھے ، جہاں امریکی افواج نے ایک حیران کن کارروائی انجام دی تھی۔بدھ کے روز ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی جہازوں کی کل تعداد 10 ہے ۔ اس میں یو ایس ایس ابراہام لنکن طیارہ بردار بحری گروپ بھی شامل ہے ، جس میں تین ڈسٹرائر اور ایف-35 سی اسٹیلتھ جنگی طیارے موجود ہیں۔اس کے علاوہ خطے میں چھ دیگر امریکی جنگی جہاز بھی سرگرم ہیں، جن میں تین ڈسٹرائر اور تین لِٹورل کومبیٹ شپس شامل ہیں۔اوپن سورس ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے ، بی بی سی ویریفائی خطے میں حالیہ امریکی فوجی تعیناتیوں میں سے بعض کی نگرانی کرنے میں کامیاب رہا ہے ۔

سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم از کم 15 جنگی طیارے اردن کے موافق (Muwaffaq) ایئر فورس بیس پر پہنچ چکے ہیں۔اردن، قطر اور بحرِ ہند میں واقع ڈیگو گارشیا کے فوجی اڈوں پر بھی آنے والے طیاروں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔بی بی سی ویریفائی نے درجنوں کارگو طیاروں اور ایندھن فراہم کرنے والے (ریفیوئلنگ) طیاروں کی نشاندہی کی ہے جو مشرقِ وسطیٰ پہنچے ہیں، جبکہ جاسوس طیارے اور ڈرونز کو فلائٹ ریڈار 24 کی ٹریکنگ ویب سائٹ پر ایرانی فضائی حدود کے قریب پرواز کرتے دیکھا گیا ہے ۔ادھر یو ایس ایس ابراہام لنکن طیارہ بردار بحری جہاز کی قیادت میں ایک بحری "آرمادا" بھی خطے میں پہنچ چکا ہے ، جس کے بارے میں ایک امریکی دفاعی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ وہ غالباً عمان کے قریب کسی مقام پر سرگرم ہے ۔سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کم از کم دو امریکی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر اور تین جنگی جہاز کئی مہینوں سے بحرین میں لنگر انداز ہیں۔ دریں اثنا، سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق ایران نے ایک ڈرون بردار بحری جہاز کو ایرانی ساحل کے قریب تعینات کر دیا ہے ۔

اقوامِ متحدہ میں ایران کے مشن نے ٹرمپ کی دھمکی پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ ملک "مذاکرات کے لیے تیار ہے "، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا:"اگر ہمیں مجبور کیا گیا تو ہم اپنا دفاع کریں گے اور ایسا جواب دیں گے جیسا پہلے کبھی نہیں دیا گیا!"علاوہ ازیں چین نے بدھ کے روز مشرقِ وسطیٰ میں "فوجی مہم جوئی" کے خلاف خبردار کیا ہے ۔اقوامِ متحدہ میں چین کے سفیر فو کانگ نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا:"طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے ۔ کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی خطے کو غیر یقینی صورتحال کی ایسی کھائی میں دھکیل دے گی جہاں سے واپسی مشکل ہو گی۔"جبکہ جرمن چانسلر فریڈرِش مرز نے کہا کہ ایرانی حکومت کے "دن گنے جا چکے ہیں ۔مرز نے رومانیہ کے وزیرِاعظم ایلیئے بولوژان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:"ایسا نظام جو صرف اپنی ہی آبادی کے خلاف تشدد اور دہشت کے ذریعے اقتدار پر قابض رہ سکتا ہے -اس کے دن گنے جا چکے ہیں۔"انہوں نے مزید کہا:"یہ معاملہ ہفتوں کا ہو سکتا ہے ، لیکن اس حکومت کے پاس ملک پر حکمرانی کرنے کی کوئی اخلاقی یا سیاسی حیثیت نہیں رہی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں