بھاٹی گیٹ:کھلے گٹر میں گرکر ماں جاں بحق،بچی کی تلاش

بھاٹی  گیٹ:کھلے  گٹر  میں  گرکر  ماں  جاں  بحق،بچی  کی  تلاش

شورکوٹ سے شوہراورساس کیساتھ داتادربار آئی سعدیہ 10 ماہ کی بیٹی رداسمیت مین ہول میں جا گری خاتون کی لاش آؤٹ فال روڈسے ملی :ڈی آئی جی ،تحقیقاتی کمیٹی قائم ، ڈائریکٹر ٹیپا سمیت 2افسرمعطل واسا اور ٹیپا واقعے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے رہے ، قبل ازیں انتظامیہ وقوعہ کو جھٹلاتی رہی

 لاہور (اپنے نامہ نگار سے ،کرائم رپورٹر،سٹاف رپورٹر سے ،مانیٹرنگ ڈیسک ) بھاٹی گیٹ کے قریب ماں 10ماہ کی بیٹی سمیت کھلے گٹر میں گرگئی ، خاتون کی لاش آؤٹ فال روڈ سے مل گئی جبکہ بچی کی تلاش جاری ہے ۔واسا اور ٹیپا واقعے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر  ڈالتے رہے اوردونوں ادارے ذمہ داری قبول کرنے سے گریزاں رہے اورمقامی انتظامیہ واقعہ کوجھٹلاتی رہی ، وزیر اعلیٰ مریم نواز نے واقعہ کانوٹس لیااورانکی ہدایت پر غفلت اور کوتاہی کے مرتکب پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اورڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو معطل کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق جھنگ کے علاقے شورکوٹ سے اپنے شوہراورساس کیساتھ داتادربار آئی سعدیہ10ماہ کی بیٹی رداکیساتھ کھلے مین ہول میں گری تو اسکے شوہر نے فوری طورپرریسکیو1122کو کال کی ،ریسکیو ذرائع کے مطابق شام 7 بجکر 32 منٹ پر کنٹرول روم کو کال موصول ہوئی، جس پر چار منٹ کے اندر ریسکیو کی 2 ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ ڈسٹرکٹ آفیسر ریسکیو لاہور شاہد وحید نے میڈیا کو بتایا کہ جس سیوریج ہول کی نشاندہی کی گئی تھی، وہاں تکنیکی طور پر کسی انسان کے ڈوبنے کا امکان نہیں تھا۔

ریسکیو ٹیموں نے ٹائر اور دیگر تکنیکی طریقوں سے بھی معائنہ کیا، مگر کسی حادثے کے شواہد نہیں ملے ۔ خاتون کے والد نے دعویٰ کیا کہ ان کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے اور سسرالیوں کو گرفتار کیا جائے ۔ پولیس نے شک کی بنیاد پر شوہر سمیت تین افراد کو حراست میں لے لیا ۔ دریں اثنا ترجمان پنجاب حکومت نے اطلاع کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں ریسکیو 1122 کے جوانوں نے ایک بار پھر اپنی مستعدی کی مثال قائم کی اور بروقت اقدامات کیے جس میں یہ بات سامنے آئی کہ ماں اور بیٹی کے ڈوبنے کی اطلاع "فیک" ہے ۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ جس سیوریج ہول کی نشاندہی کی گئی اس میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ناممکن ہے ۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا سیوریج لائن کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہاں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا تاہم رات گئے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ خاتون کی لاش ساڑھے چار گھنٹے کی کوشش کے بعد آؤٹ فال روڈ پر جہاں سیوریج لائن ختم ہوتی ہے ، وہاں سے ملی ہے ۔

بظاہر ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ جس وقت یہ واقعہ ہوا اس وقت سیوریج لائن میں پانی کا فلو زیادہ ہو گا جو بعد میں کم ہوا ہو گا۔ سی سی ٹی وی فوٹیجز دیکھ رہے ہیں، ان فوٹیجز سے مکمل تفصیل پتہ چلے گی کہ کیا واقعہ ہوا تھا، خاتون کس وقت کہاں تھیں۔ خاتون کے شوہرسمیت تین افرادکورہاکردیاگیاہے ،ادھر وزیراعلیٰ مریم نواز نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا اورانکی ہدایت پر غفلت اور کوتاہی کے مرتکب پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اورڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو معطل کر دیا گیا جبکہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کردی گئی جسے 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری احمد رضا سرور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے کنوینر ،سیکرٹری مواصلات سہیل اشرف رکن ہونگے ،ایڈیشنل آئی جی پولیس (سپیشل برانچ) اورایڈیشنل سیکرٹری (ایڈمن) ایس اینڈ جی اے ڈی بھی کمیٹی میں شامل ہونگے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں