28ویں ترمیم ، پی پی اور حکومت میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

 28ویں ترمیم ، پی پی اور حکومت میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

پیپلز پارٹی منظوری میں رکاوٹ بنی وفاق اور سندھ میں تبدیلیاں بھی آسکتی ہیں

لاہور (تجزیہ: سلمان غنی)

ملک کے سیاسی منظرنامے میں یہ خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ عید کے بعد 28ویں ترمیم لانے کی تیاری مکمل ہو چکی ہے ۔ اگرچہ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس کی واضح تردید سامنے آ چکی ہے اور ان کے بقول فی الحال ایسا کوئی منصوبہ حکومت کے زیرِ غور نہیں ہے ، لیکن جو لوگ سیاسی حالات پر نظر رکھتے ہیں وہ بار بار اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اسلام آباد میں ایک ایسی دستاویز تیار ہو چکی ہے جس میں 28ویں ترمیم کی بنیاد پر بہت سی سیاسی اور قانونی تبدیلیوں پر مکمل ہوم ورک کیا جا چکا ہے ۔اس میں بالخصوص نیشنل  فنانس کمیشن اور اٹھارہویں ترمیم کے بہت سے مندرجات میں تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی 28ویں ترمیم پر اپنے سخت تحفظات کا اظہار کر رہی ہے اور ان کے بقول وہ صوبائی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ یہ خبریں بھی موجود ہیں کہ 28ویں ترمیم کی بنیاد پر پیپلز پارٹی، اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت کے درمیان کھل کر اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کی سیاست میں خاموشی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔اس ترمیم میں بلدیاتی نظام کو قانونی خودمختاری دینے کی باتیں بھی سامنے آئی ہیں، جس میں ایم کیو ایم کے مطالبات کو قانونی شکل دینا بھی شامل ہے ۔ پہلے ہی اس ملک میں 26ویں اور 27ویں ترامیم کی بنیاد پر عدالتی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں پر بہت زیادہ تنقید ہو رہی ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ 28ویں ترمیم کے بعد کیا عدالتوں میں مزید تبدیلیاں آئیں گی۔جس طرح مختلف ججز کا مختلف صوبوں میں تبادلہ کیا گیا ہے ، اس سے بھی عدالتی نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پیپلز پارٹی 28ویں ترمیم کی بنیاد پر کس حد تک سیاسی سمجھوتہ کرتی ہے ، اور اگر وہ سمجھوتہ نہیں کرتی تو اس کی مزاحمت کس حد تک ہوگی اور وہ کس حد تک وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگی۔اگر پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان 28ویں ترمیم پر ٹکراؤ ہوتا ہے تو پھر پیپلز پارٹی کا نیا کردار کیا ہوگا؟ اور جو ہم کئی برسوں سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان باہمی تعلقات کی سیاست دیکھ رہے ہیں، اس کا مستقبل کیا ہوگا؟

یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ پیپلز پارٹی کو واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ وہ 28ویں ترمیم پر وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کرے اور ان کے جائز مطالبات کو حل کیا جائے گا۔ لیکن اگر اس کے برعکس پیپلز پارٹی کھل کر 28ویں ترمیم پر تنقید کرتی ہے یا اس کی منظوری میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے تو پھر پیپلز پارٹی کے لیے وفاق اور سندھ کی سطح پر مختلف تبدیلیاں بھی دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کو یہ پیغام دیا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ 28ویں ترمیم کو چھیڑنے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ اس سے دونوں جماعتوں کی صوبائی سیاست اور حکومتی نظام متاثر ہو سکتا ہے اور صوبائی خودمختاری بھی کمزور ہوگی۔بہرحال اسلام آباد میں عید کے بعد بہت کچھ تبدیل ہونے کی باتیں ہو رہی ہیں اور وفاقی حکومت نے پسِ پردہ بہت سے معاملات پر اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے ۔ لیکن کیا حکومت اس کھیل میں کامیاب ہو سکے گی؟ اس کا فیصلہ عید کے بعد ہی سامنے آئے گا، اور اسی بنیاد پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا مستقبل بھی واضح ہو سکے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں