ساورن ویلتھ فنڈ پر قرض اور ضمانت پر پابندی کی سفارش

ساورن ویلتھ فنڈ پر قرض اور ضمانت پر پابندی کی سفارش

مالی معاونت کرنے ، ادھار بازی اور اثاثے گروی رکھنے سے بھی منع کر دیا گیا قانون میں ترامیم تیار،کردار غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ تک محدود :ذرائع

اسلام آباد (مدثر علی رانا) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے ساورن ویلتھ فنڈ پر متعدد پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کر دی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ساورن ویلتھ فنڈ کو قرض لینے یا کسی بھی قسم کی ادھار بازی ، ضمانتیں فراہم کرنے یا اثاثے گروی رکھنے سے منع کر دیا گیا ہے جبکہ سرکاری یا نجی اداروں یا افراد کو قرض دینے پر پابندی ہو گی۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اس پر اتفاق رائے ہوا ہے ۔حکومت نے سرکاری ملکیتی اداروں کی اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کا آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق اس کا مقصد ریاستی بوجھ کم کرنا، مالی نقصانات میں کمی لانا اور عوام کو بہتر خدمات فراہم کرنا ہے ۔ دستاویز کے مطابق حکومت ایک طرف کے گورننس فریم ورک میں موجود خامیوں کو دور کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب ان اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور ریاست کے تجارتی کردار کو محدود کرنے پر بھی کام جاری ہے۔

حکومت نے اس سے متعلق قوانین میں چھ ترامیم پارلیمنٹ کو منظوری کے لیے ارسال کر دی ہیں تاکہ انہیں مکمل طور پر ایس او ایز ایکٹ کے مطابق بنایا جا سکے جبکہ باقی ماندہ اداروں کے قوانین میں تبدیلی پر بھی پیشرفت جاری ہے ۔ اسی طرح ساورن ویلتھ فنڈ کے قانون میں ترامیم کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جنہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالا گیا ہے اور پارلیمنٹ سے منظوری لے کر ترمیمی قانون پر عملدرآمد کرنا ہے ۔ ان ترامیم کے تحت ساورن ویلتھ فنڈ کی قانونی حیثیت واضح کی جائے گی اور اسے ایک سرکاری ملکیتی ادارے کے طور پر متعین کیا جائے گا اور اس کا کردار سرکاری اداروں کے انتظام اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ تک محدود کیا جائے گا۔دستاویز کے مطابق نجکاری اور خریداری کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے نئے قواعد متعارف کرائے جا رہے ہیں جن کے تحت تمام لین دین کھلے ، مسابقتی اور غیر امتیازی طریقہ کار کے تحت ہوں گے اور ہر مرحلے پر معلومات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اسی طرح ساورن ویلتھ فنڈ کے بورڈ اور مشاورتی کمیٹی کی تقرری کو میرٹ، شفافیت اور پیشہ ورانہ اصولوں کے مطابق بنانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ انہیں سیاسی اور نجی اثر و رسوخ سے آزاد رکھا جا سکے۔

حکومت نے ایس او ایز کی کارکردگی اور نگرانی کے نظام کو بھی مضبوط بنانے پر زور دیا ہے اور بتایا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں دس اداروں کا جائزہ مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ تمام اداروں کا جائزہ دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ اب تک چونتیس ادارے اپنے بزنس پلانز اور کارپوریٹ اہداف جاری کر چکے ہیں جبکہ انتالیس ادارے بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ معیار کے مطابق اپنے مالیاتی گوشوارے پیش کر رہے ہیں۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے مزید رہنما اصول بھی تیار کیے گئے ہیں اور پبلک سروس آبلیگیشن فریم ورک نافذ کیا جا چکا ہے ۔ ذرائع کے مطابق سنٹرل مانیٹرنگ یونٹ کے ڈیٹا بیس کو مکمل طور پر آن لائن کر دیا گیا ہے اور آئندہ رپورٹس اسی نظام کے تحت تیار کی جائیں گی جبکہ ڈیٹا کے خودکار انضمام پر بھی کام جاری ہے ۔آئی ایم ایف کو نجکاری پروگرام پر پیشرفت کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے حکومت نے بتایا کہ 27 اداروں کی نجکاری کے عمل پر پیشرفت جاری ہے ۔ دستاویز کے مطابق ڈسکوز کی نجکاری کے پہلے مرحلے میں مارکیٹ خدشات کے باعث تاخیر ہوئی ہے تاہم دوسرے مرحلے پر کام جاری ہے ۔ روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری مشترکہ منصوبے کے تحت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسلام آباد ایئرپورٹ کو طویل المدتی رعایت کے تحت دینے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس کے بعد لاہور ایئرپورٹ کو بھی لیز پر دیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے خودمختار ویلتھ فنڈ اور اس کے تحت کام کرنے والے سرکاری اداروں کے لیے حکمرانی اور مالی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے کی اہم تجاویز فائنل ہوئی ہیں۔ ان تجاویز کا مقصد شفافیت، جوابدہی اور مالی استحکام کو یقینی بنانا ہے تاکہ قومی وسائل کا مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال ممکن ہو سکے ۔دستاویز کے مطابق ساورن ویلتھ فنڈ کی ملکیت میں آنے والے سرکاری اداروں کو دیگر تمام سرکاری اداروں کی طرح یکساں اعلیٰ معیار کی حکمرانی اور احتسابی نظام کے تحت لانے کی تجویز دی گئی ہے ۔ اس مقصد کے لیے ساورن ویلتھ فنڈ ایکٹ کی دفعہ 50 میں ترمیم کی سفارش کی گئی ہے تاکہ واضح طور پر یہ طے کیا جا سکے کہ ساورن ویلتھ فنڈ کے زیر انتظام ادارے بھی مکمل طور پر ایس او ایز ایکٹ اور متعلقہ پالیسیوں کے تابع ہوں گے ۔یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ساورن ویلتھ فنڈ کو ایک ہولڈنگ کمپنی یا مالک ادارے کے طور پر واضح ذمہ داریاں دی جائیں جبکہ اس کی نگرانی کے لیے مضبوط نظام وضع کیا جائے ۔ اس عمل میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ماہرین سے بھی مشاورت کی گئی ہے تاکہ عالمی معیار کے مطابق اصلاحات نافذ کی جا سکیں۔

دستاویز کے مطابق فسکل سیف گارڈز پر زور دیا گیا ہے ۔ اس کے تحت تجویز ہے کہ ساورن ویلتھ فنڈ اور اس کے ذیلی فنڈز کی تمام آمدن براہِ راست حکومت کے خزانے میں جمع کرائی جائے اور فنڈ کے پاس نہ رکھی جائے ۔ اسی طرح ساورن ویلتھ فنڈ کے سرمایہ کاری کے لیے درکار تمام وسائل وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے جیسا کہ پبلک فنانشل مینجمنٹ ایکٹ کے تحت طے ہے ۔مزید سخت اقدامات میں ساورن ویلتھ فنڈ پر متعدد پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے جن میں قرض لینے یا کسی بھی قسم کی ادھار بازی سے مکمل گریز، ضمانتیں فراہم کرنے یا اثاثے گروی رکھنے کی ممانعت، سرکاری یا نجی اداروں یا افراد کو قرض دینے پر پابندی شامل ہے ۔ اس کے علاوہ فنڈ کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں شراکت داری، مالیاتی اثاثے یا سرمایہ کاری کے آلات خریدنے اور مرکزی بینک، سرکاری اداروں یا کسی بھی عوامی ادارے سے مالی معاونت حاصل کرنے سے بھی روکا جائے گا۔ماہرین کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف مالی بے ضابطگیوں کو روکنے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ ملک کے مالیاتی نظام میں اعتماد بھی بحال کریں گے ۔ اگر ان تجاویز پر عمل درآمد کیا گیا تو یہ پاکستان میں سرکاری اداروں کی کارکردگی اور شفافیت کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے ۔ ساورن ویلتھ فنڈ منافع بخش اداروں کو چلانے اور سرمایہ کاری کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں