اسلامی نظریاتی کونسل کسی فرد کیخلاف رائے دینے کی مجاز نہیں:ہائیکورٹ
سائبر کرائم ایجنسی کا کونسل سے کسی فرد کے بیان پر رائے مانگنا غیر قانونی:فیصلہ جاری عدالت نے انجینئر مرزا کے خلاف رائے کالعدم قرار دے کر درخواست منظور کر لی
اسلام آباد (رضوان قاضی) اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلامی نظریاتی کونسل کے رائے دینے دائرہ کے اختیار سے متعلق اہم فیصلہ جاری کردیا، جسٹس محسن اختر کیانی کی ٹرانسفر سے قبل 27 اپریل کو جاری فیصلہ میں عدالت نے کہا اسلامی نظریاتی کونسل کسی فرد کے خلاف فوجداری مقدمہ میں رائے دینے کی مجاز نہیں، آئین کے آرٹیکل 229 اور 230 کونسل کو انفرادی مقدمات میں مداخلت کا اختیار نہیں دیتے ، کونسل صرف قومی و صوبائی اسمبلیوں ، صدر اور گورنرز کو رائے دے سکتی ہے ،سائبر کرائم ایجنسی کا کونسل سے کسی فرد کے بیان پر رائے مانگنا غیر قانونی ہے۔
کسی فرد کی فوجداری ذمہ داری طے کرنا کونسل کا کام نہیں صرف عدالتوں کا اختیار ہے ، کونسل کی دی گئی رائے ملزم کے منصفانہ ٹرائل کے حق کی خلاف ورزی ہے ، عدالت نے انجینئر محمد علی مرزا کے خلاف کونسل کی رائے غیر قانونی قرار دے کر کالعدم قرار دی اور رائے کے خلاف درخواست منظور کر لی۔ عدالت نے کہا کونسل کے پاس کسی فرد کے فعل کو جرم قرار دینے کا قانونی اختیار نہیں جب تک آئین میں ترمیم نہ ہو، کونسل اپنے موجودہ مینڈیٹ سے تجاوز نہیں کر سکتی۔